بلوچستانتازہ ترین

نااہل وزیراعلیٰ اپنے ساتھی کوناراض نہیں کرناچاہتے،ظہوربلیدی

بلوچستان حکومت ، پولیس، انتظامیہ اور خاموش تماشائی اسمبلی ممبران برابر کی شریک ہیں

کوئٹہ(یواین اے)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء سابق صوبائی وزیر میر ظہوراحمدبلیدی نے کہاہے کہ بارکھان واقعہ پر شروع سے تحقیقات کامطالبہ کیاتھا لیکن وزیراعلیٰ اپنے ساتھی کو ناراض نہیں کرناچاہتے اب بھی اسے گناہ سے بری کرنے کی کوشش کررہے ہیں،ڈپٹی کمشنر کچھی کی کارروائی کو خوش آئند قراردیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ بہت اچھا اقدام ہے لیکن اگر یہی ایکشن آپ غریب خاتون گراں ناز مری کی دہائی پر لے لیتے تو سانحہ بارکھان نہیں ہوتا اور غریب خاندان پر ظلم و جبر کے پہاڑ نہیں ٹوٹتے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے بیان میںکیا۔ انہوں نے بارکھان واقعہ سے متعلق کہاکہ میں نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور شروع ہی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن دبے ہوئے اور نااہل وزیراعلی نے اپنے کابینہ کے وزیر اور ممبران اسمبلی کو ناراض کرنے کا انتخاب کیا اور اپنے ساتھی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ پھر بھی اسے گناہ سے بری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کچھی کی کارروائی سے متعلق بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ بہت اچھا اقدام ہے لیکن اگر یہی ایکشن آپ غریب خاتون گراں ناز مری کی دہائی پر لے لیتے تو سانحہ بارکھان نہیں ہوتا اور غریب خاندان پر ظلم و جبر کے پہاڑ نہیں ٹوٹتے اس جرم نا صرف ایک سردار شامل ہے بلکہ پوری حکومت ، پولیس، انتظامیہ اور خاموش تماشائی اسمبلی ممبران برابر کی شریک ہیںضلع کیچ میں انتظامیہ کے بجائے پولیٹکل ایجنٹ تعینات کیا گیا ہیجو وزیر اعلی اور وزرا کو عوام کی جیب کاٹ کر بھتہ دیتا ہے اور بلوچستان کے سب سے پڑھے لکھے ضلع کیمسائل میں اضافہ کررہا ہے جس کے ناقابل تلافی نقصانات کا اندیشہ ہے لہذا ہوش کے ناخن لیں اور عوام کو مزید پریشان مت کریں ۔انہوں نے کہاکہ بلیدہ اور زموران کے معززین اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ مشاورتی میٹنگ کی۔ سرحدی تجارت، آئندہ مردم شماری اور سیاسی پیش رفت سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ مجھ پر اعتماد کرنے کے لیے پی پی ایل کی تعریف کریں۔سانحہ بارکھان نااہل صوبائی حکومت کی غفلت اور مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے پیش آیا ہے، خان محمد مری کی متعدد اپیلوں کے باوجود فیملی کی بازیابی کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی لہذا صوبائی حکومت مستعفی ہوجائے بصورت دیگر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد فوری طور پر لائی جائے ۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button