بلوچستانتازہ ترین

عدلیہ کا یہ نظام ہے کہ 21لاکھ کیسز پڑے ہیں لوگ جیلوں میں مرر ہے ہیں

ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہے جبکہ وفاقی حکومت کابینہ میں اضافہ کررہی ہے ،عوام قطعاََ ایسی ٹیکسز کو قبول نہیں کریگی

کوئٹہ(یو این اے )عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر نوابزادہ ارباب عمر فاروق کاسی نے کہاہے کہ ایوان بالا میںقانون سازی کی بجائے سیاسی سکورنگ کی جاتی ہے،عدلیہ کا یہ نظام ہے کہ 21لاکھ کیسز پڑے ہیں لوگ جیلوں میں مرر ہے ہیں ،لوگوں کے مرنے کے 4سال بعد انہیں بری کیاجاتاہے،ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہے جبکہ وفاقی حکومت کابینہ میں اضافہ کررہی ہے ،عوام اور اپنے حق کیلئے آواز بلند کرے تو ریاست کا رویہ سخت اور ایف آئی آرز کاٹ دی جاتی ہے ،ایف سی کا ادارہ امن وامان کی بحالی کی بجائے ٹھیکیداری میں مصروف ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔نوابزادہ ارباب عمر فاروق کاسی نے کہاکہ دنیا میں جب غریب لوگوں پر بوجھ ڈالاجاتاہے تو دیکھنا پڑتاہے کہ آپ خود کیا کرتے ہیں اسلام میں بھی سب سے پہلے اپنے گھر سے شروع کرنے کا کہاگیاہے سرکاری پروٹوکولز، بڑی سائز کاکابینہ ،سرکاری ملازمین کی ہفتے اور اتوار کی گاڑی بند کرائیں جب حکومتی وسرکاری لوگوں پر بوجھ پڑے تو عوام سے بھی کہا جاسکتاہے کہ ہم بھی بوجھ برداشت کررہے ہیں آپ بھی اس بوجھ کوبرداشت کرے توپھر لوگ قبول کرتے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہاہے تو عوام بھی اپنا حصہ ڈالے گی لیکن اگر دن بدن ایڈوائزر اور دوروں میں اضافہ ہورہاہے توپھر عوام بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوگی،ملک جس نہج پرپہنچاہے دہشتگردی، صوبوں میں جو صورتحال ہے ہم ایسی صورتحال کاسامناکررہے ہیں کہ بعد میں کنٹرول کرنامشکل ہوجائیگا۔عدلیہ کا یہ نظام ہے کہ 21لاکھ کیسز پڑے ہیں لوگ جیلوں میں مرر ہے ہیں ،لوگوں کے مرنے کے 4سال بعد انہیں بری کیاجاتاہے اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا یہ ایوان اس لئے بنایاگیاکہ ایسے قوانین بنائے جائیں کہ ہم سیاسی سکورنگ کرے ،یہاں بیٹھے لوگ اقتدار کیلئے لڑ رہے ہیں عوام کی بات کوئی نہیں کرتا کوئی ایسی قانون سازی نہیں دیکھی کہ جس کا عوام کوفائدہ ملاہوں ،سیکورٹی لیپس قانون نافذ کرنے والے اداروں کاکام ہے افغانستان ،ایران اور طالبان سمیت جس حوالے سے جو بھی پالیسی ہے انہیں بلایاجائے کہ اتنے پیسوں اور ڈیفنس بجٹ کے باوجود ہمارے لوگ شہید ہورہے ہیں ،خیبرپشتونخوا میں 100سے زائد شہداء ،کراچی پولیس پر حملہ ہوتاہے کیا ہم ہر دفعہ صرف ایوان میں دعائیں پڑھتے رہیںگے کوئی یہ سوال نہیں کرتاکہ آرمی کے کتنے ریٹائرڈ اور موجودہ آرمی آفیسران عہدوں پر برجمان ہے بتایاجائے کہ ریٹائرڈ اور ڈیوٹی پر موجود آفیسران تعداد کتنی ہے ،یوسف شاہ ہرنائی میں یہ نشاندہی کرتاہے کہ ایف سی چیک پوسٹ پر ہمیں کن مشکلات کاسامنا کرناہے تو پھر انہیں 16ایم پی او میں بند کیاجاتاہے کیا اس طرح پاکستان چلایاجاتاہے ؟ بلوچستان میں خواتین کو اٹھایاجاتاہے خواتین کی تذلیل شروع کردی گئی ہے نواب اکبر بگٹی کے ساتھ جو کیا وہ سنبھالا نہیں جارہا تو پھر آج خواتین پر ہاتھڈال رہے ہیں ،بلوچستان کے حالات کو کس طرح لے جایاجارہاہے پہلے بھی کہاتھاکہ جب تک ایف سی کو بلوچستان سے نہیں نکالاجاتا کبھی بھی امن نہیں آسکتا، یہاں ایف سی ایک ٹھیکیدار بنی ہوئی ہے وہ صرف پیسے کمانے کیلئے ہے جس نے کسی دہشتگرد کو نہیں پکڑا ، بلوچستان میں صرف قبائلی لوگوں کی بے عزتی کی جارہی ہے جس طرح گوادر میں مولاناہدایت الرحمن جماعت بے شک جماعت اسلامی ہوگی لیکن عوام نے ٹرالر مافیا کے خلاف بھرپور آواز بلند کی ہمیں چاہیے کہ ہمیں ٹرالر مافیا کے خلاف جو تباہی کا موجب بن رہے ہیں ،ہم چین کے پیسوں سے گوادر کو صاف پانی نہیں دیا کم از کم انہیں ٹرالر مافیا سے نجات تو دلا سکتے ہیںاگر عوام اس کے خلاف نکلتی ہے توپھر انہیں جیل میں ڈالاجاتاہے جب بات کی جاتی ہے توپھر ہمارے خلاف ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے ،سب کو مل کر عوام کیلئے ایساکام کرناچاہے جو پارٹی سیاست سے بالاتر ہوں ۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button