بلوچستانتازہ ترین

حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے پائوں کھینچنے میں مصروف ہیں

سندھ فصلات کے سیزن میں پانی اور اب آٹا بند کردیاہے ،افغانستا ن کیلئے ٹرک کی بجائے بلوچستان کے لوگوں کاایک تیلا روکاجاتاہے

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر دنیش کمار نے کہاہے کہ سندھ فصلات کے سیزن میں پانی اور اب آٹا بند کردیاہے ،افغانستا ن کیلئے ٹرک کی اسمگلنگ کی بجائے بلوچستان کے لوگوں کاایک تیلا روکاجاتاہے ، سیلاب کی 5ماہ گزر جانے کے باوجود بھی ریلوے لائن بحال نہیں ہوسکی کیا ہم یتیم اور لاوارث ہے جو اس طرح کا سلوک کیاجارہاہے ؟ماہر وبابا معاشیات اسحاق ڈار آئی ایم ایف کے آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی بجائے گھٹنوں میں جھگ گئے ہیںحکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے پائوں کھینچنے میں مصروف ہیں ،کفایت شعاری کے تحت کابینہ ارکان میں کمی ،سینیٹرز،ارکان کی مراعات میں کمی ، بیوروکریسی کی مراعات ختم کرے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر دنیش کمار نے کہاکہ سندھ حکومت نے بلوچستان کیلئے آٹے پر پابندی لگادی ہے یہ یزیدیت والا سلوک ہے فصلات کے وقت پانی اور اب آٹے پر پابندی عائد کردی ہے اگر ایک تیلا بھی لے آتے ہیں تو وہ لوگ چھین لیتے ہیں یہ انسانی ظلم ہے سندھ دھرتی اپنی مان مانی ہے ،کالاباغ ڈیم میں ہمیں فائدہ مل رہاتھا لیکن سندھ کی خاطر ہم نے ساتھ دیا لیکن انہوں نے توہمارا آٹا بھی بند کردیا اس طرح کے اقدامات سے نفرتیں بڑھیںگی انہوں نے کہاکہ چوری نہیں بلکہ پیسے دیکر آٹا لیاجارہاہے ،سندھ کا فوڈ اتنا کرپٹ ہے کہ ٹرک افغانستان جاتاہے انہیں نہیں روک رہا بلکہ ایک تیلے کو روکا جارہاہے جو افسوسناک ہے امید ہے کہ معاملے کوفوری طورپر حل کرایاجائے گا،انہوں نے کہاکہ سیلاب کی 5ماہ گزر جانے کے باوجود بھی ریلوے لائن بحال نہیں ہوسکی کیا ہم یتیم اور لاوارث ہے جو اس طرح کا سلوک کیاجارہاہے ؟ ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ دوزان پل بن جائیگی لیکن وہ اب تک نہیں بن سکی بلوچستان کے لوگ دربدر ہے مچھ سے ٹرینیں بحال کی ہے اب تو بولان میل بھی بند کردی ہے بلوچستان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیاجارہاہے؟ سوتیلی ماں سے زیادہ دشمنی والا رویہ اپنایاجارہاہے ،انہوں نے کہاکہ حلفیہ کہتاہوں کہ اگر کہیں احتجاج ہوتاہے تو ہم وہاں سے منہ چھپا کر بھاگتے ہیں کیوں ؟جب ہمارے ماہر وبابا معاشیات اسحاق ڈار تشریف لائے توانہوں نے کہاکہ ہم آئی ایم ایف کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرینگے اب کیا ہوا ان کے گھٹنوں میں جھگ گئے ہیں اور پاکستان کی عوام کوایسی اذیت میں مبتلا کردیاہے کہ انہیں نان شبینہ کے لالے پڑے ہیں ،اسحاق ڈار کی مفتاح اسماعیل سے دشمنی تھی مفتاح اسماعیل نے چھڑی لائی تھی اسحاق ڈار نے اس سے بھی تیز چھڑی عوام میں گھونپ دیاہے ہم عوام کے غیض وغضب سے بھی نہیں ڈر رہے بجٹ پر پیپلزپارٹی کے سینیٹرز بھی خاموش رہے ہمیں کہاجاتاہے کہ کفایت شعاری کی جائے کہ کابینہ میں اتنے ممبرز بھرتی کی گئی ہے اتنی بڑی تعداد میں کابینہ ہے ،کسی کے پیر بھاری ہوتے ہیں اسحاق ڈار کے پیر پاکستان کیلئے بھاری ہے وہ لندن میں تھے تو وہاں کی معیشت برباد ہوئی اور اب پاکستان آگئے تو یہاں بھی معیشت برباد کرکے رکھ دی ۔ن لیگ کے سینیٹرز بھی اسحاق ڈار کو ڈیفنڈ نہیں کررہے ،شہبازشریف نہیں بلکہ اسحاق ڈار وزیراعظم ہے ان کی زیادہ چل رہی ہے اسحاق ڈار نے ہمارے ارمانوں کاخون کرکے عوام پر بم گرادیاہے بحیثیت اتحادی اسحاق ڈار کی حمایت پر شرم آرہی ہے میں اس گناہ میں برابر کاشریک ہوں ۔یہ تواچھا ہے کہ کورونا نے ہمیں ماسک دئیے اور اہم ماسک پہن کر گھوم رہے ہیں یہاں سنجیدگی نہیں ہے ،حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے پائوں کھینچنے میں مصروف ہیں ،کفایت شعاری کے تحت کابینہ ارکان میں کمی ،سینیٹرز،ارکان کی مراعات میں کمی ، بیوروکریسی کی مراعات ختم کرے ،چیئرمین اوگرا کی مراعات ،کارپوریشنز ،اتھارٹیز ہیں ،چیئرمین اوگرا کو 3روپے کلومیٹر گاڑی ملتی ہے اوبر بھی 20روپے لیتی ہے ان مراعات پر توجہ نہیں صرف ٹیکس پر ٹیکس لگائے جارہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان ،خیبرپشتونخوا میں ڈاکٹرز اور میڈیسن کمپنیوں کی گٹھ جوڑ ہے کمپنیاں ڈاکٹرز کو کمیشن دیتی ہے ان لوگوں میں انسانیت مرگئی ہے ،اینٹی بائیوٹک بھی ہول سیل کے حساب سے دی جارہی ہے جعلی ادویات بھی مریضوں کو دی جارہی ہے ،افغانستان سے جو مریض آتے ہیں ان سے تو ڈاکٹرز گد کی طرح چھیننے کی کوشش کرتے ہیں ان ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کی جائیں ۔کیا صحت کے شعبے کو صوبوں کے رحم وکرم پر چھوڑاجائے

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button