بلوچستانتازہ ترین

درجہ اول آئل کی فی لیٹر قیمت 600 سے 610 روپے تک پہنچ گئی ہے

ضلعی انتظامیہ منافع خور مافیا کو قابوکرنے میں مبینہ طورپرناکام نظرآرہی ہے

کوئٹہ(یو این اے)اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا سلسلہ جاری ہے ، ضلعی انتظامیہ منافع خور مافیا کو قابوکرنے میں مبینہ طورپرناکام نظرآرہی ہے ، اوپن مارکیٹ میں ایک ماہ کے دوران درجہ اول اور دوم آئل کی قیمت میں بالترتیب71 سے 102روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا،جس کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ڈالرکی حالیہ اڑان کے مہنگائی کی شرح میں اضافے رجحان برقرارہے ملک کے دیگر شہروں کی طرح کوئٹہ میں بھی اشیا خوردونوش کی قیمتیں بڑھ گئے ہیںاوپن مارکیٹ میں گھی اور آئل کی من مانی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں درجہ اول آئل کی فی لیٹر قیمت 600 سے 610 روپے تک پہنچ گئی ہے، شہر میں سستے داموں ملنے والاایرانی آئل بھی ناپیدہوگیا، ایرانی آئل کے نام پر مہنگے داموں غیر معیاری آئل فروخت کیاجارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ماہ کے دوران درجہ اول آئل کی قیمت میں71روپے تک اضافہ دیکھاگیا ہے جس سے پانچ لیٹر آئل355روپے اضافے کے بعد3050روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ درجہ اول گھی کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔درجہ دوم آئل کی قیمتوں میں ایک ماہ کے دوران 102روپے تک اضافہ ہوا جس سے 12لیٹر آئل کی قیمت1238روپے اضافے سے 6528روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ درجہ دوم گھی کی قیمت میں71روپے تک اضافہ کیا گیا ہے جس سے 12کلو آئل1132روپے اضافے سے6432روپے تک جا پہنچی ہے۔شہریوں نے بتایاکہ ضلعی انتظامیہ منظرعام سے غائب ہے منافع خور مافیا ریلیف کے نام پرشہریوں کو دوہاتھوں سے لوٹ رہے ہیںجس سے متوسط طبقے کومالی مشکلات درپیش ہیں، عوامی حلقوں نے کمشنرکوئٹہ ڈویژن اورڈپٹی کمشنرکوئٹہ سے مطالبہ کیا کہ مہنگائی کوکنٹرول کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں کمی لایا جائے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button