
کوئٹہ(ی این اے)بلوچستان کے تمام شہری حدود میں تحصیلداروں سے زمین جائیداد کے انتقال درج کرنے کے اختیارات ختم کردیے گئے، سینئرممبربورڈآف ریونیونے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو روشن علی شیخ نے بتایا کہ ”ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882”کی وسعت سے صوبے کے تمام اضلاع کے شہری حدود میں تحصیلداروں سے زمین جائیداد کے انتقال درج کرنے کے اختیارات ختم کردیے گئے ہیں اس عمل سے حکومت اور عوام دونوں مستفید ہوںگے اور اس کے دور رس نتائج بھی مرتب ہوں گے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ایم بی آر نے بتایا کہ ”لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 ”کے تحت ریونیو افسران حاصل شدہ اختیارات کے تحت ریونیو ریکارڈ میں تبدیلی کر سکتے تھے جبکہ اس ایکٹ کی شہری علاقوں تک وسعت سے اب انتقالات کی بجائے رجسٹری ہوا کرے گی، رجسٹری میں ریونیو افسران کو اپنے طور پر کسی بھی قسم کی تبدیلی کے اختیارات حاصل نہیں ہوںگے اس ایکٹ کے تحت متاثرہ فریق عدالت عالیہ میں اپیل کرنے کا بھی حق رکھ سکتا ہے ۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بتایاکہ موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ عوام کو زندگی کے ہر شعبے میں بہترین سہولیات میسر ہوں اس ایکٹ کے تحت صوبے ہر فرد اور پراپرٹی کا کاروبار کرنے والوں کے لیے آسانیاں ہوںگی، انہوں نے مزید کہا کہ اس ایکٹ کے شہری علاقوں تک وسعت سے ٹیکس کی چوری نہیں ہو سکے گی جس سے صوبے کے ریونیو میں اضافہ ہوگا ااور جہاں ”بلوچستان اربن امووایبل پراپرٹی ٹیکس ایکٹ 1958 ”قابل عمل ہے وہاں وہاں یہ ایکٹ بھی لاگو ہوگا جبکہ پٹوارخانہ و ریونیو ریکارڈ جائیداد کے انتقال کی بجائے صرف ریکارڈ محفوظ رکھا کریں گے۔



