بلوچستانتازہ ترین

پی ڈی ایم نے اپنے گھر پر قابض چور کو نکال باہر کیاہے

امریکہ جیسا مضبوط ملک بھی اس نظام سے ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہیں

کوئٹہ(یو این اے )جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر اور وفاقی وزیر ہائوسنگ مولاناعبدالواسع نے کہاہے کہ پی ڈی ایم نے اپنے گھر پر قابض چور کو نکال باہر کیاہے مہنگائی نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے مسلط جابر وظالم حکومت کے خاتمے کیلئے اقتدار میںآکر سیاست کی بجائے ریاست کا تحفظ کیاہے ،سابقہ حکمران پاکستان کے وجود اور نیوکلیئر اثاثوں کیلئے خطرہ تھے پہلے ہی دن کہاتھاکہ جتنے دن یہ حکومت رہے گی اتنے ہی مشکلات بڑھیںگی ، کوئی ذی شعور شخص پانچ ماہ کی حکومت قبول نہیں کرتا اگر بقا کامسئلہ نہیں ہوتا تو ہم فوراََ الیکشن کراتے،پشاور دھماکے کے حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہے ،بین الاقوامی قوتوں کو ہضم نہیں ہورہا اس لئے وہ افغانستان سے زیادہ پاکستان کے حالات خراب کرنے کے درپے ہیں،معاشی مشکلات سودی نظام کی وجہ سے ہے امریکہ جیسا مضبوط ملک بھی اس نظام سے ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہیں نظریاتی کارکنوں کا جمعیت کی طرف متوجہ ہونا نیک شگون ہے ،حضرت افغان ،حضرت علی کاکڑ ودیگر کی جمعیت میں شمولیت سے جماعت مزید مضبوط اور فعال ہوگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی دفتر میں شمولیتی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اراکین قومی وصوبائی اسمبلی مولوی کمال الدین ،سیدعزیز اللہ آغا،مفتی روزی خان ،جمعیت ضلع کوئٹہ کے امیرمولاناعبدالرحمن رفیق،جنرل سیکرٹری حاجی بشیر کاکڑودیگر بھی موجود تھے ۔اس موقع پر حضرت افغان ،حضرت علی کاکڑ ،حاجی عبدالحکیم ،نوید کاکڑ ودیگر نے جمعیت علماء اسلام میںشمولیت کااعلان کیا اورکہاکہ موجودہ ملکی مجموعی ابتر صورتحال گزشتہ حکمرانوں کی نابالغی کی وجہ سے ہے ،جن مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں اگر جمعیت علماء اسلام اور مولانافضل الرحمن فعال ومتحرک کردارادا نہیں کرتے تو شاید آج کی صورتحال کیلئے بھی ہم ترس جاتے ،مولانافضل الرحمن نے ملکی حقیقی ترجمان کی حیثیت سے حالات کاادراک کرتے ہوئے سازشی محرکات کے خاتمے کیلئے قائدانہ کرداراداکیا مولانافضل الرحمن کی بااصول اور ولولہ انگیز قیادت سے متاثر ہوکر میں اے این پی کے مرکزی کونسل کے ممبر وسابق صوبائی سیکرٹری اطلاعات ،پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق صوبائی جنرل سیکرٹری حضرت علی کاکڑ ،ممتاز قبائلی رہنماء حاجی عبدالحلیم کاکڑ ودیگر ساتھی باقاعدہ جمعیت علماء اسلام میںشمولیت کااعلان کرتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ اے این پی سے طویل وابستگی کے بعد چند وجوہات سیاسی ،اصولی اور جمہوری روایات سے مسلسل انحراف ہے ،بلوچستان میں اے این پی اپنے عروج کی انتہا پر ہے ،پارلیمانی وسیاسی اصولوں سے روگردانی کی وجہ سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہوئے ،غیر آئینی وغیر دستوری اقدامات کو تحفظ ملنے سے ہم جیسے سیاسی کارکن مایوس ہوگئے تھے ۔جمعیت علماء اسلام کی قیادت پر مکمل اعتماد کااظہار کرتے ہیں ،ایک ادنی کارکن کی حیثیت سے جماعت کوفعال ومنظم بنانے کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیںگے ۔صوبائی امیر اور وفاقی وزیر مولاناعبدالواسع نے نئے شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ جمعیت علماء اسلام کوفعال ومنظم بنانے کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے اس وقت ملک ایسے کنارے پر ہے کہ ہر فرد دیکھ رہاہے کہ امید کی کرن کہاں ہے اور ہم کس طرف جائیں ،جمعیت علماء اسلام امید کاایک پلیٹ فارم ہے ،مولانافضل الرحمن کی قیادت میں قد آور شخصیات ،سابق وزراء ودیگر نے جمعیت کے قافلے میں شمولیت کااعلان کیاتھا شمولیتوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، حضرت افغان نے ایک نظریاتی جماعت کو چھوڑ کر ایک جمعیت علماء اسلام کاانتخاب کیا جب ہم نے ملن مارچ کررہے تھے تو اختتام پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑی کامیابیاں عطاء فرمائی ہم نے 15ملین مارچ کئے ،آزادی مارچ کئے 15دن اسلام آباد میں جابر مسلط حکومت کے خلاف عوام کی جنگ اور معیشت کی مضبوطی کا جنگ لڑا،مسلط حکمرانوں ،سودکے خلاف اور مدارس کے تحفظ کی جنگ لڑی وہ سلیکٹڈ حکمران ہماری نیوکلیئر پاور ، وجود کے خاتمے کے درپے تھے لہٰذا ہم نے یہ جنگ اپنی سرلے لیا اورجس حکومت کو بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کا تعاون حاصل تھا جبکہ ہماری ملکی اسٹیبشلمنٹ بھی کھلم کھلا تعاون کررہی تھی ،انہوں نے کہاکہ ہمارے بلند حوصلوں اور ورکرز اور پاکستان کے 22کروڑ عوام کی جدوجہد سے سلیکٹڈ حکومت کا خاتمہ کیا جس طرح آٹے سے بال نکالاجاتاہے انہیں بھی اقتدار اور قومی اسمبلی سے ایسے ہی نکالا ،اے این پی کا بلوچستان حکومت میں بڑا اور اہم حصہ ہے حضرت علی جیسے لوگ مفاد حاصل کرسکتے تھے لیکن انہیں ایک عزم کیاتھا باچاخان کا فلسفہ تھا ،عوام کو سہولت پہنچانے کا وعدہ تھا .

https://www.goonjlive.com/14/11/2022/4632/


،انہوں نے کہاکہ لوگ جوق درجوق جمعیت علماء اسلام میں شامل ہورہے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ آپ کی حکومت میں آنے سے مہنگائی بڑھ گئی ہے ہم نے پہلے ہی دن کہاتھاکہ جتنے دن سلیکٹڈ کی حکومت ہوگی اتنے ہی ہم برے دن دیکھیںگے اور ریاست کے وجود کو اتنا ہی زیادہ خطرہ ہوگا،مسلط شدہ حکومت اپنے مقاصد کیلئے آئے تھے ،ہم نے پاکستان کو بچانے کیلئے سیاست قربان کی ہمارے اثاثے ار نیوکلیئر محفوظ ہوگئے ،آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدات ہوئے ہیں جب تک وہ ختم نہیں ہونگے یہ اثرات مرتب ہوںگے پاکستان کی بقاء اور نیوکلیئر اثاثہ جات کامسئلہ ہے ہم نے ملک کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں کوئی ذی شعور شخص پانچ ماہ کی حکومت قبول نہیں کرتا اگر بقا کامسئلہ نہیں ہوتا تو ہم فوراََ الیکشن کراتے اسمبلی توڑ دیتے توملک ڈیفالٹ کرجاتا ایک چور گھر پر ڈاکہ ڈال کر دیوار یں گرا کربرتن توڑ دیں ہم نے گھر کو بنانے کا طے کررکھاہے ایک ڈاکوجو ہمارے گھر پر قبضہ کیا ہواتھا کو نکال باہر کیاہے ،تمام سیاسی لوگ معاملات دیکھ رہے ہیں ہم نے ریکوڈک کے مسئلے پر حکومت کی مخالفت کااعلان کیا اسمبلی میں بھی آواز بلند کی صوبائی حکومت سمیت چاروں صوبوں میں معدنیات کو مرکز کودینے جیسے معاملات پر بھرپور آواز بلند کی ،18ویں ترمیم کو مزید مضبوط کرینگے ،

https://www.goonjlive.com/07/02/2023/8563/


ہماری اس وقت تک کابینہ سے بائیکاٹ جاری رہا جب تک حکومت کے وزراء ہمارے پاس آتے مرکزی حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کئے کہ صرف ریکوڈک کے 200ایریا تک محدود ہوگا جبکہ تمام اختیارات واپس صوبوں کودئیے جائیںگے یہ بل سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں سے پاس ہوگیا ہم نے بلوچستان اور پاکستان کی جنگ لڑی ہے اسی وجہ سے لوگ ہماری طرف متوجہ ہورہی ہے منظم اور فعال جماعت اور بااصول قیادت کی وجہ سے لوگ ہمارے ہاں متوجہ ہورہے ہیں ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے مولاناعبدالواسع نے کہاکہ جب قرارداد کے ذریعے معدنیات مرکز کودئیے گئے ،سندھ اور بلوچستان سے قراردادیں پاس ہوئی جس پر جمعیت علماء اسلام اور بی این پی نے آواز بلند کی ہم نے واضح کیاکہ 18ویں ترمیم کو مزید مضبوط کرنے کی بجائے اس کو کمزورکیاہے پی ڈی ایم نے اعلان کردیا تو پھر کیسے حصہ لے سکتے ہیں؟40سال سے یہاں جن قوتوں کی مداخلت تھی اگر انہیں نکالیںگے تو پھر وہ قوتیں افغانستان سے زیادہ پاکستان سے ناراض ہے وہ افغانستان سے زیادہ پاکستان کو خراب کرناچاہتے ہیں ،تجزیہ نگاروں اور امیر تقی کی پریس کانفرنس سب کے سامنے ہیں ،پاکستان کو نقشے مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہے ،افغانستان نے اپنا جنگ لڑا لیکن بین الاقوامی قوتیں پاکستان سے ناراض ہیں اس لئے ان کی مداخلت ہوتی رہے گی ،انہوں نے کہاکہ یہ معلوم نہیں کہ دہشتگرد کہاں سے آئے ؟ چاروں اطراف ہمسایہ ہے اب تک اس نتیجے پرنہیں پہنچے ہیں ،افغانستان ،ایران میں امن قائم جبکہ بھارت ہمارے ہاں دہشتگردی میں بارہا ملوث ہے ،تحقیقاتی ادارے کام کررہے ہیں کہ کس کی جانب سے اس میں ملوث ہونے کاامکان ہے ،ادارے ڈھونڈ رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ معاشی مشکلات ہیں جمعیت کی تحریک سودی نظام کے خلاف چل رہی تھی کہ قرضے لیکر سود پر ادائیگی کرینگے اب بھی واضح کیاہے کہ جب تک سودی نظام کا خاتمہ نہیں ہوگا تو معاشی بحران سے نکلنا ناممکن ہے حکومت کو اس بات پر مجبور کردیا کہ اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کو سود کے خلاف فیصلے کے خلاف دائر درخواستیں واپس لیں ،اللہ کا فطری نظام ہے جو معیشت کی بقاء بلکہ انسانیت کاتحفظ ہوگا۔ امریکہ بھی ڈیفالٹ کی طرف جارہاہے جس کی ایک اہم وجہ سودی نظام ہے جب مجھے بریفنگ دی جارہی تھی توبتایاگیاکہ 104ممالک جس میں45سے 50ممالک غیر مسلم ہے جو اسلامک بینکاری کی طرف جارہے ہیں ہماری بینکاری کے نظام میں معیشت مستحکم نہیں کیاجاسکتا ،آج جن حالات کاسامنا ہے اس کا بارہا نشاندہی کرتے آرہے ہیں ۔صوبائی وزیر خزانہ نے مالی بحران کے حوالے سے بات رکھی ہے ہم نے بھرپور تعاون کا یقین دلایاہے این ایف سی کی وجہ سے ہم زیر عتاب آئے اور جمعیت کو اقتدار سے نکالا ،بلوچستان ہماراصوبہ ہے ہم ہی اس کے والی وارث ہے این ایف سی ودیگر حولاے سے بھرپور مدد کرینگے ۔

Follow GoonjLive On Facebook , Twitter ,Linkedin, RSS and Youtube

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button