
اسلام آباد(یو این اے)وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ قوم پوچھ رہی ہے دہشت گردوں کوکون واپس لایا ہے انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح کے پی دہشت گردوں کے ہاتھوں چلا گیا سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں کو کون واپس لایا، فوری اقدامات نہ کئے تو دہشت گردی پورے ملک میں پھیل جائیگی وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران پشاور میں دھماکے سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے فی الفوراقدامات نہ کیے تو دوبارہ دہشت گردی پھیل جائے گی بہادر اور غیور عوام کی ہمت کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے ان خیالات کا اظہاروزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں کیا وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو تاریخ بھلا نہیں پائے گی، ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائینگی۔وزیراعظم نے کہا کہ اس سے زیادہ بدقسمتی کی کوئی بات نہیں ہوسکتی کہ دہشت گردی کی لہر دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ ان دہشت گردوں کو دوبارہ کون واپس لایا؟ آج پوری قوم یہی سوال پوچھ رہی ہیوزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا دوبارہ کس طرح دہشتگردوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے، فی الفور مناسب اقدامات نہ کیے تو یہ دہشتگردی دوبارہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں پھیل جائے گی شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت 10 سال سے تھی، کہتے ہیں وفاق سے پیسے نہیں مل رہے،2010 سے لیکر آج تک 417 ارب روپے دیئے،417 ارب روپے کہاں گئے کہاں استعمال ہوئیدہشتگردی کا ناسور دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، بے نظیر بھٹو بھی دہشتگردی کا نشانہ بنیںانہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کے اقدامات کی مد میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت گزشتہ 10 برسوں میں 417 ارب روپے خیبرپختونخوا کو ادا کیے جا چکے ہیں تاکہ اس حوالے سے ان کی جائز ضروریات پوری ہوسکیں. فوجی آپریشنز کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ آپریشن ردالفساد اور آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشتگردوں کو کاری ضرب لگی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب نے حصہ ڈالا ہے، راولپنڈی کی کسی مسجد پریڈ لی میں ہونے والے ایک دھماکے میں فوجی افسران اور ان کے بچے بھی شہید ہوگئے تھے انہوں نے کہا کہ اس تمام عرصے کے دوران کسی اور صوبے کو اس مد میں کوئی رقم نہیں دی گئی، صرف خیبرپختونخوا کو یہ رقم ادا کی گئی، میں یہاں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کررہا بلکہ حقائق پر بات کررہا ہوں وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھاکہ آپ کو 40 ارب سال کا مل رہا ہو تو پھر آپ کا یہ شکوہ بنتا نہیں ہے کہ ہمارے محکمہ انسداد دہشتگردی میں کمزوریاں ہیں یا ان کے پاس مطلوبہ سامان اور تربیت نہیں ہے، یہ سب باتیں ناقابل یقین ہیں، فنڈز نہ ملنے کا شکوہ کرنا حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔



