
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)کے مرکزی سیکرٹری جنرل اورصوبائی وزیر زراعت میر اسد اللہ بلوچ نے دعویٰ کیاہے کہ پاکستان کو چندے کے ذریعے نہیں چلایاجاسکتا، مرکز اور صوبوں کو ایک پیج پر آنے کے بعد ہی معیشت کو استحکا م مل سکتاہے ،تمام سیاسی جماعتوںکو اپنے سیاسی ،ذاتی گروہی مفادات پس پشت ڈالنے کی ضرورت ہے ،بے روزگاری کا یہ عالم ہے کہ یہاں 12آسامیوں کیلئے ہزاروں نوجوان کاغذات لیکر پہنچ جاتے ہیں لیکن اس پر بھی اسٹے لے لیاگیاہے، معاشی بحران نے پاکستان سمیت دنیا بھر کولپیٹ میں لیاہے ،بلوچستان کو مالی مشکلات کاسامناہے حکومت کے پاس تنخواہوں کیلئے رقم نہیں ہے ،وفاقی حکومت فوری طورپر بلوچستان کو ان کے حق کے فنڈز ریلیز کرے ۔ان خیالات کااظہار انہوںنے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میر اسد بلوچ نے کہا کہ معاشی بحران نے پاکستان سمیت دنیا بھر کولپیٹ میں لیاہے ،بلوچستان کو مالی مشکلات کاسامناہے حکومت کے پاس تنخواہوں کیلئے رقم نہیں ہے ،انہوںنے کہاکہ قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہونے کے باوجود یہاں کی عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسرکررہے ہیں ،مرکزی حکومت اپنی ذمہ داری نہیں نبھارہا ،آئین کے تحت بلوچستان کو این ایف سی میں جو حصہ دیاجاتاہے وہ بھی گزشتہ سالوں میں کم ملاہے حالانکہ یہ آئین میں محفوظ ہیں ،رواں سال 40ارب روپے کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے صوبائی نظام ٹھپ ہوکر رہ گیاہے ،جینوا میں پاکستان کے سیلاب کی صورتحال سے متعلق کانفرنس میں جو امداد دی گئی ہے اس پر پہلا حق بلوچستانیوں کو ہے ہم سیلاب سے زیادہ متاثر اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے بلوچستان کامختلف طریقوں سے استحصال جاری ہے وزیراعظم نے دورہ بلوچستان کے موقع جن امداد کااعلان کیاہے وہ بھی نہیں ملا،بلوچستان کے حکمرانوں نے جمہوری انداز میں اپنامقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیاہے میڈیا سمیت ہر فورم پر جدوجہد جاری رکھیںگے ،بلوچستان میں سیلاب سے زمینداروں کو 300ارب روپے کانقصان ہواہے دیگر ممالک میں قائم حکومتیں اپنے زمینداروں اور عوام کو پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے انہیں سپورٹ کرتے ہیں لیکن یہاں وفاق سے تعاون طلب کی گئی وہ تودرکنار اپنے پیسے بھی وقت پر نہیں دئیے ہیں ۔میر اسد بلوچ نے دعویٰ کیاکہ حکومت بلوچستان نے مختلف ترقیاتی وغیر ترقیاتی اسکیمات پر کٹ لگا کر 4ارب روپے کا پیکج زمینداروں کودیاہے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے یہاں کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے ۔انہوںنے کہاکہ مرکز کی جانب سے معلوم نہیں کہ بلوچستان کو ان کے پیسے کب دیں گے البتہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر آئندہ ماہ ملازمین کوتنخواہیں دینے کیلئے بھی رقم نہیں ہوگی ،انہوں نے دعویٰ کیاکہ پاکستان میں نئے انتخابات کیلئے 75ارب روپے کی ضرورت ہوگی



