
” کے موضوع پر وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ محمودخان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان وسائل سے بھرا ملک ہے ، شروع دن سے جمہور کی حکمرانی ، آئین کی بالادستی ، پارلیمنٹ کی خودمختیاری سے انکار کے نتیجے میں مشکلات سے دوچار ہوتا رہا ہے ، تمام سیاسی و جمہوری قوتوں بشمول عمران خان کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں مل بیٹھ کر اس ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلانے کیلئے راہ نکالتے ہیں۔ انہوں نے کہاں کہ اس مقصد کیلئے وہ ہر کسی کے پاس جانے اور اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایک طرف بین الااقوامی و علاقائی صورتحال اور دوسرے طرف ہمارے ملکی سیاسی اور معاشی حالات ہمارا ساتھ نہیں دے رہے ہیں ۔ملک معاشی حالات کی وجہ سے غربت اور مہنگائی کے اس نہج پر پہنچنے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو کسی بھی وقت افراتفری اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔پاکستان کی موجودہ حالت انتخابات سے نہیں، بلکہ تمام سٹیک ہولڈرز کی گول میز کانفرنس جس میں ملک کو چلانے کے اصول وضح کئے جائیں،جب تک ملک میں بسنے والے اقوام کی تاریخ سے آشنا نہیں ہونگے ملک کی اندرونی و بیرونی پالیسی، قوانین موثر ثابت نہیں ہونگے۔ہم لوگوں کو وزیراعلی اور وزیراعظم وغیرہ لاتے ہیں اور خود انکو کرپٹ کرتے ہیں، شفاف فیڈریشن لائیں، عوامی رائے میں مداخلت نہ کریں، چار سال میں ملک درست سمت میں آجائے گا۔لائے گئے ایورگرین سیاستدان آج تک برسر اقتدار ہر پارٹی و آمر انہ اقتدار کا حصہ رہے ہیں میری رائے میں ان پر اب پابندی لگنی چاہیے۔سیاسی آقابرین کیلئے بطور رکاوٹ مخالفت میں لوگوں کو لانے سے نتیجہ یہی نکلا کہ نفسیاتی طور پر پاکستان کا معاشرہ ہر آنے والے کی پوجاری بنی اور ہر جانے والے کو گالیاں دیتی رہی ہے ،پاکستان کو بچانے اور ٹھیک کرنے کا الف یہ ہوگاکہ افواج اور جاسوسی اداروں کو آئینی فریم میں رہتے ہوئے سیاست میں مداخلت سے باز آنا ہوگااور عوام کے منتخب کردہ نمائندے ، سیاسی جمہوری پارٹیاں ہی ممالک چلاتے ہیں۔سویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہیں جو بزور طاقت ایجنسیوں کے ذریعے ملکی ادارے چلانے سے ناکام ہوا خفیہ ایجنسی کے بغیر وہاں کوئی کچھ نہیں بن سکتاتھا باوجود اسکے کہ بڑے باصلاحیت اہلکار اور جنگی وسائل رکھتے تھے۔اس لیئے ضروری ہے کہ ملک کی بقا کیلئے ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کی رائے لی جائے اور اسٹیبلیشمنٹ کو آئین کی بالادستی ، پارلیمنٹ کی خودمختاری ، جمہورکی حکمرانی کا کڑوا گھونٹ پینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اداروں کےرویے کا اس سے اندازہ لگائیں کہ تین دہائیوں قیدوبند میں رہنے والے میرے والد خان شہید کو جب ہم خط لکھتے تھے تو ” کیر آف CID” لکھنا پڑتا تھا جو CID سے ہوکر آتا جاتا تھا، بچے ایسا کیا لکھیں گے کہ آپ اس پر بھی نظر رکھتے تھے۔انہوں نے کہا کہ جن ججز نے این آر اوکے تحت حلف نہیں لیا اور تمام مراعات کو مسترد کرتے ہوئے آئین کی بالادستی ، جمہور اور قانون کی حکمرانی کیلئے کھڑتے ہوئے انہیں ملکی اعزاز سے نوازتے ہوئے تمغے دیئے جائیں اور این آر اوکے تحت حلف لینے والے ججز سے تنخواہیں واپس لی جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف قوموں کا شریک فیڈریشن ہے جس میں پشتون، بلوچ، سرائیکی، سندھی اور پنجابی اقوام اپنی اپنی آبائی سرزمین پر آباد ہیں ،ناانصافیوں کے ذریعے اسے بزور طاقت نہ متحد رکھا جاسکتا ہے اور نہ ہی چلایا جا سکتا ہے۔ اس کی بقا جمہوری وفاقیت، آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری میں ہے جہاں ہر قوم کو اپنے وسائل پر اختیار ہو اور سیاسی معاشی و ثقافتی حقوق حاصل ہو۔ اس سلسلے میں محمود خان اچکزئی نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہاں کہ وہاں مختلف عقائد، درجنوں زبانیں اور قومیں آباد ہیں اور سخت ترین غربت کے باوجود بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بنانے اور چلانے میں کامیاب ہوا ہے ۔ اب وہ معاشی استحکام اور ترقی کی طرف گامزن ہے لیکن بدقسمتی سے ہم جمہوری راستہ نہ اپنانے کی وجہ سے آئے روز مشکلات اور بحرانوں میں گرتے جارہے ہیں ۔ بحرانوں سے نکلنے اور ملک کو ترقی کی جانب گامز ن کرنے کیلئے ججوں، جرنیلوں، بیوروکریسی سمت سب کو اپنے آئینی دائرہ میں رہنا ہوگا۔لیکن یہاں شروع سے مراعات اور کرپشن کے بل بوتے پر ایک مصنوعی سیاسی طبقہ بنایا گیا جو ہر آمریت اور نام نہاد جمہوری حکومتوں کا حصہ بنتاہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ ایسے عناصر کو اپنے صفوں میں شامل نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اقوام کی زبانوں کے احترام کیلئے بطورِ مثال قرآن کی آیت کا حوالہ دیتا ہوں جس میں خدا تعالیٰ زبانوں کی تخلیق کو اپنی ربوبیت کی نشانی قرار دیتا ہے۔آج سائنس بھی اقوام کی مادری زبانوں میں تعلیم کو دماغ کی بہترین کارکردگی کیلئے تجویز کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی وزیر کی رہائی کیلئے پشتونخواملی عوامی پارٹی نے ملک ، ملک سے باہر 16دسمبر کو بھرپور احتجاجی مظاہرے کیئے اور وکلاء برادری پر زور دیا کہ علی وزیر کی رہائی کیلئے ہمارے آواز میں اپنی آواز ملاتے ہوئے اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی ایک جرنیل، جج، بیوروکریٹ کو بلوچستان کا علم نہیں۔ جسکو آپ بلوچستان کہتے ہیں اصل میں برٹش بلوچستان یعنی پشتون اکثریتی صوبہ تھا جسکو ملیامیٹ کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس خطے میں اگر کسی ایک ریاست کی بقا اور آزادی کو خطرہ ہوا تو یہ پوری خطے کے عدم استحکام کو شکار کرکے بالکانائزیشن (Balkanization)کی طرف جاسکتے ہیں جس میں نہ افغانستان ،نہ ایران اور نہ ہی پاکستان محفوظ ہوگا ۔ انہوں نے کہاں کہ افغانستان اور پاکستان بہترین دوست بن سکتےہیں جو علاقائی استحکام اور معاشی ترقی کا نوید ہوگا۔ اگر دونوں طرف سنجیدہ ہو تو ہم اس دوستی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے پر جب افغانوں کی حکمرانی تھی تو سکاٹش Mountstuart Elphinstoneبرطانیہ کی طرف سے ہندوستان بھیجے گئے جنہوں نے پہلے یہاں کی مزاج اور حالات معلوم کئے اور پھر برطانوی حکمرانی کیلئے تجاویز دیں، اور اپنے کاغذاتِ نامزدگی افغانستان کے دارالخلافہ پشاور قلعہ بالا حصار میں پیش کی۔ جو انھوں نے The Kingdom of Kabul کتاب میں تفصیل سے لکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال اپنے مشہور شہر میں لکھتے ہیں، نیل کے سائل سے لیکر کاشغر تک مسلمان خطہ خانہ کعبہ کی دفاع کیلئے یک جان ہونگے۔اگر دیکھا جائے تو تاریخ میں پورے مسلمان ممالک نے شکست تسلیم کی ہے ماسوائے ترک اور افغان قوم کے جنہوں نے ہر غاصب کے خلاف جنگ کرکے اپنی آزادی اور استقلال کی دفاع کی۔مگر بدقسمتی سے جب انگریز ہندوستان پر قابض ہوئے تو انکے کاسہ لیس سکھ اور پنجابی مسلمان انگریزوں کی فوج میں شامل ہوکر افغانستان پر انگریزوں کے قبضے کیلئے حملے کرتے رہے۔یہ تب ہورہا تھا جب ہمارے اباواجداد انگریزوں سے آزادی کی جنگ میں مصروف عمل تھے ۔ انہوں نے کہا کہ 1942کو کرپس مشن کے ذریعے ہندوستان کی تین نقاتی قرارداد کی منظوری پر مولانا عبدالکلام آزاد نے کانگریس سے استعفیٰ دیا، نہرو کی پہلی پریس کانفرنس سے جناح کو مایوسی ہوئی اور پاکستان کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ انگریز سے آزادی لینے میں شامل ہمارے آباؤ اجداد کو قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں محدود کرنے کیلئے منصوبہ بندی سے رکاوٹیں پیدا کی گئیں، جناح نے اپنے غیر سیاسی ساتھیوں کے بارے میں کہاکہ میرے جیب میں سکھے سارے کھوٹے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے صدام حسین پرایٹمی تنصیبات اور اسلحے سمیت دیگر الزامات لگاکر حملہ کیا 10 لاکھ لوگوں، فوج، انفراسٹرکچر کو تباہ کیا اور بعد میں ایک لفظ ”سوری” کہا کہ ہم سے غلطی ہوگئی۔اب اگریہاں خطے میں لڑائی شروع کیاگیا تو پاکستان، افغانستان، ایران تمام ٹکڑوں میں بٹ جائیں گے۔پاکستان نے افغانستان کو بطورِ اپنا پانچواں صوبہ، سٹریٹیجک ڈیپتھ، یا کالونی کی سوچ اب چھوڑنا ہوگا۔ اور معاہدہ کرنا ہوگا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے۔ افغان اپنے وطن کے معاملے میں بڑے حساس ہیں۔پاکستان کا افغانستان کی سالمیت اور امن میں مثبت کرادر سے ہی پاکستان میں وسطی ایشیا کا تقریباً مفت تیل و گیس پائپ لائن براستہ افغانستان آسکتا ہے جوخطے کی بہترین معیشت کا واحد حل ہے۔انہوں نے کہا کہ سویٹزرلینڈ کی فرانسیسیوں کی طرح پشتون افغان بھی ایک قوم دو ممالک میں رہتے ہیں، پاکستان میں پشتونوں (افغان) کو واحد صوبے میں کرکے انہیں وہ حقوق دیں جو ملک میں دیگر اقوام کے ہیں، بہترین پاکستان بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ چالیس سالہ بربادی سے آئے افغان بچوں، عورتوں اور نوجوانوں کےساتھ پاکستان میں ہونے والے سلوک کے ویڈیوز تصاویر دیکھے جس پر اب تک انسانی حقوق سے وابستہ کسی شخص تنظیم نے بات نہیں کی، اسطرح کی بے انصافی، تضحیک آمیز رویوں سے نفرتیں ہی جنم لیتی ہیں،انسانی حقوق کے اداروں کو اس کو نوٹس لینا چاہیے اور UNHCRکی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے تمام افغانوں کو وہ جہاں پر بھی ہے ان کی باعزت زندگی ، امن اور تحفظ کیلئے انتظامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ کم سے کم علامہ اقبال کی یہ بات تو مان لیں کہ ایشیا کے دل افغانستان میں امن ہوگا تو پورے خطے میں امن ہوگا اور بربادی بھی پورے خطے کی بربادی ہوگی۔اس موقع پر اسلام آبادبار ایسوسی ایشن کے صدر چوھدری حافظ اللہ یعقوب اور جنرل سیکرٹری محمود بلال مغل نے بھی خطاب کیا۔ چوھدری حافظ اللہ نے اپنے استقبالیہ خطاب میں محمود خان اچکزئی کی جمہوریت کیلئے جدوجہد اور خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیااور ان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بار کی دعوت قبول کرتے ہوئے اس اہم موضوع پر اپنی رائے دی۔



