
کوئٹہ ،سابق وزیراعلیٰ بلوچستان چیف آف ساراوان نواب اسلم خان رئیسانی نے کہا ہے کہ غیرفطری ‘ غیر نظریاتی جماعتوں کی تشکیل نے ہمیشہ عوام کو ناامید ہی کیا ہے پاکستان ایک کثیرالقومی ریاست ہے جس کے فریم ورک میں رہتے ہوئے حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں بڑی جماعتیں ایک بار پھر اپنی ڈرامہ بازیاں شروع کررہی ہیں دیکھنا ہے کہ وہ کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”یو این اے ” سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا نواب اسلم خان رئیسانی نے کہا کہ جس طرح بلوچستان میں حکومتی جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے اسے دیکھ کر یہ واضح ہو رہا ہے غیر فطری اور غیر نظریاتی جماعتوں کی تشکیل کی جو حالت ماضی میں ہوئی حال میں بھی وہی صورتحال درپیش ہے ہم روز اول سے کہہ رہے ہیں کہ سیاست میں مداخلت کا خاتمہ ہی اصل سیاسی جمہوری جہد کی منزل کو تقوید بخش سکتا ہے جب تک اس طرح کے غیر فطری فیصلے کئے جائیں گے اس کا انجام یونہی سامنے آتے رہیں گے جس سے نہ صرف عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی بلکہ اس طرح کی ٹوٹ پھوٹ بلوچستان کی ترقی میں بھی رکاوٹوں کا باعث بنتی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے جس میں ہمیشہ آئین کی بالادستی اور جمہور کے تحفظ کے لئے اصل سیاسی نظریاتی جماعتیں جدوجہد کرتی رہی ہیں ہم نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ ہم پاکستان کے فریم ورک میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ ایک بارپھر بڑی سیاسی جماعتیں بلوچستان میں قدم جمانے کی کوشش کررہی ہیں تاہم عوام باشعور ہیں اور وہ جانتے ہیں کس جماعت نے بلوچستان ‘ سندھ ‘ پنجاب کے لئے کیا کام کیا ہے اور کون صرف اور صرف باتوں سے بہلانے کی کوشش کرتا رہا تاہم بڑی جماعتوں کی ڈرامے بازی شروع ہو چکی ہے دیکھنا یہ ہے کہ یہ کہا تک کامیاب ہوتے ہیں



