
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں افغانستان کے نصف آبادی سے زائد خواتین پر اعلی تعلیم بند کرنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایسے اقدامات کو خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور انھیں انکے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے کی سازش قرار دیا بیان میں کہا گیا کہ دین مبین اسلام میں بھی خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے مرد و عورت کو ہر حال میں تعلیم حاصل کرنے کی تاکید کی ہے جبکہ موجودہ جدید سائنسی دور میں جہاں خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں وہی انھیں تعلیم کے حق سے محروم کرکے ثابت کیا جارہا ہے کہ ایک طبقہ افغانستان کے عوام اور وہاں آباد اقوام کو پتھروں کے دور میں دھکیلنے اور زمانہ جاہلیت کے دور کو واپس لانے کے خواہاں ہیں بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کے خواتین نے تعلیم کے میدان میں انتہائی کامیابیاں حاصل کی ہے انھوں نے تعلیم کے حق کیلئے بڑی قربانیاں دی ہے انھیں تعلیم اور اعلی تعلیم کا حق ہر حال میں ملنا چاہئیے اسکے لئے کوئی مخصوص یا علاقائی رواج کو جواز بناکر ان پر پابندی لگانا کسی صورت درست نہیں بیان میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور تمام بین الاقوامی برادری سے کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی



