
کوئٹہ ۔پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان ہماری جدوجہد کے نتیجے میں بنا تھا لیکن بننے کے بعد خان شہیدعبدالصمد خان اچکزئی گرفتار ہوئے اور 6سال جیل میں گزارنے کے بعد جب رہا ہوئے تو انہوں نے سیاسی پارٹی ورور پشتون کی تشکیل کی جس کے پروگرام ملک کو قوموں کی برابری کی فیڈریشن کا آئین ، جمہور کی حکمرانی ، ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر حقیقی پارلیمانی سیاسی نظام اور ملک میں تاریخ ، جغرافیہ اور زبان کی بنیاد پر صوبوں کی تشکیل اور ایک دوسرے سے متصل پشتون سرزمین کی وحدت اور تشخص پشتونستان اور پشتونوں کی وسائل پر پشتون قومی اختیار کے مقاصد کے تحت ”ورور پشتون” کی تشکیل کی۔ پشتونخوا وطن میں رہنے والے پشتون اور دیگر تمام زبانیں بولنے والے برابر ہیں،اس مادر وطن میںجتنا حق میرے بچوں کا ہے اتنا ہی سب باسیوں کا ہیں ۔پشتونوں کی یہ تاریخ رہی ہے کہ وہ کبھی بھی مذہب، فرقے ،رنگ، نسل اور نہ ہی زبان کی بنیاد پر کسی سے نفرت کرتے اور نہ ہی فاصلے ناپتے ہیں۔ پشتو اور اسلام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ہم ہر کسی کی مذہب کا احترام کرتے ہیں لوگ ہمارے مذہب کا احترام کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ کے علاقے کچلاغ میں قبائلی وسماجی رہنماء گلاب خان سلیمانخیل کی اپنے خاندان ،عزیز واقارب اور ہزاروں ساتھیوں سمیت پشتونخواملی عوامی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ ان کی رہائش گاہ پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس سے پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین عبدالرحیم زیارتوال ، مرکزی سیکرٹریز نواب ایاز خان جوگیزئی ، عبدالرئوف لالا ، گلاب خان سلیمانخیل ، ضلعی ڈپٹی سیکرٹری فاروق وطنشاد ، علاقائی سیکرٹری نصیر خان کاکڑاورملک نادر کاکڑنے خطاب کیا ۔ اس موقع پر پارٹی کے صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی ، سابق ایم پی اے سید لیاقت آغا، قبائلی عمائدین ودیگر بھی تقریب میں شریک تھے۔ محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے گلاب خان سلیمانخیل اور ان کے ساتھیوں کی پارٹی میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پشتون تاریخ میں قوم سیال رہی ہے، دسترخوان پر بلا امتیاز ایک دوسرے کے برابر بیٹھتے ہیں اور دنیا کی واحد قوم ہے جس کی مادروطن کا ہرپتھر ، پہاڑاورایک ایک انچ زمین کے مالک معلوم ہے۔ اگر اتحاد و اتفاق سے رہے تو وہ دن دور نہیں جب پشتونستان کے ہم مالک ہونگے۔ آپس کی معمولی باتوں اور رنجشوں کو ختم کرکے ہم انہی توانائیوں کو اپنی قوم کی شعوری سیاست کو دوام دینے کیلئے صرف کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کی وطن میں چاہے آپ کا جو بھی مذہب ہو صبح وضو کیلئے پانی رکھ دیتے ہیں چاہے اس سے آپ وضو بنائو یا پھر منہ دھولو، ہم کسی سے مذہب کی بنیاد پر نفرت نہیں کرتے، یہی توقع رکھتے ہیں کہ لوگ ہمارے مذہب، ثقافت ، زبان کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ ہمارے یار ہیں وہ کبھی کبھی جذباتی ہوتے ہیں، بلوچوں کی وطن جنت کا ٹکڑہ بن کر انکو مبارک، پنجاب پنجابیوں کو مبارک اور سندھ سندھیوں کو مگر پشتونوں کی سرزمین اور وسائل پر حق پشتون بچوں ہی کا ہے۔ پاکستان ایک شفاف، حقیقی، جمہوری فیڈریشن بن کرچل سکتا ہے جہاں پر جتنا آپ کی ماں، بیٹی، بہن، بچے اور باپ کا حق ہو اتنا ہی پشتون ماں ، بیٹی، بہن ، بچے اور باپ کا حق ہوگا۔ایسا ممکن نہیں کہ آپ کا والد آفیسر اور میرا چوکیدار رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پارٹی کو منظم کرکے پشتونوں کو اپنی حقوق کی جد وجہد کیلئے متحد کرنا ہوگا۔ زئی و خیلی کی بنیاد پر نہیں بلکہ بحیثیت قوم ہم نے ظالم کے مقابلے میں مظلوم کا ساتھ ہر حال میں دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی استقلال، ارضی تمامیت کا دفاع کرنا ہوگا۔ ہم پاکستان کو نہیں تھوڑنا چاہتے مگر یہاں سے افغانستان میں مداخلت کو کبھی بھی برداشت نہیں کرینگے۔افغانستان نے جرگے کے ذریعے ایک ایسا راستہ و دستور بنا کر وہاں پر بزور بندوق اقتدار کی حصول کا راستہ ہمیشہ کیلئے بندکرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگرتمام افغان اتحاد و اتفاق کا دامن تھام لیں تو دنیا نے ہر حال میںانہیں پچاس سالہ تاوان جنگ دینا ہوگا۔



