
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ روکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے ریکوڈک کے معاملے پرحکومتی اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی دیں دی یہ ریکوڈک کا قانون سازی نہیں بلکہ بلوچستان کو لوٹنے کی قانون سازی ہیں ریکوڈک سے متعلق قانون سازی کے معاملے پر حکومت کے اہم اتحادی سردار اختر مینگل حکومتی رویے سے سخت ناراضگی کا اظہار کردیا اس حوالے سے سردار اختر مینگل نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی پر غور و مشاورت شروع کر دی ہے 15 دسمبر کو پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے وفاقی حکومت سے علیحدگی سمیت لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر بھی کور کمیٹی کے ممبران کے درمیان مشاورت ہو گی وفاقی حکومت نے بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری و تحفظ بل پر اعتماد میں سردار اختر مینگل کو نہیں لیا گیا ہے جس پر سردار اختر مینگل نے یکوڈک سے متعلق قانون سازی پر ساتھ دینے سے انکار اور تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے سرداراختر مینگل نے کہا ہے کہ تمام اختیارات، ٹیکس، منرلز اور مائننگ وفاق کے پاس ہوں گے تووزیر اعلی بلوچستان کے پاس اب صرف ایک کرسی رہ گئی ہے انہوں نے کہا کہ ریکوڈک پر قانون سازی کے مخالف ہیں، سندھ اسمبلی کی قرارداد اٹھارویں ترمیم کے خلاف ہے، یہ ریکوڈک کا نہیں بلوچستان کولوٹنے کا معاملہ ہے اس حوالے سے ریکوڈک سے متعلق قانون سازی پر حکومتی اتحادیوں کے تحفظات اب تک برقرار ہیں۔



