
بسیمہ ۔چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا ہے کہ آئین پاکستان جس قدر اختیار مجھے دیتا ہے اس کے تحت میں ہر وہ کام کرنے کو تیار ہوں جس سے عام آدمی کی بھلائی اور بہتری ہو ان خیالات کا اظہار انہوں نے بسیمہ میں جوڈیشل کمپلیکس کی نو تعمیر شدہ عمارت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ کے دیگر جج صاحبان جسٹس ہاشم خان کاکڑ جسٹس عبداللہ بلوچ جسٹس نذیر احمد لانگو ،جسٹس عبدالحمید بلوچ جسٹس اقبال احمد کاسی ،جسٹس عامر نواز رانا، جسٹس سردار احمد حلیمی ، سیشن جج خاران، ایڈیشنل سیشن جج بسیمہ اور رجسٹرار بلوچستان ہائی کورٹ راشد محمود کے علاوہ جوڈیشل افسران بار کے نمائندے ممبران اور علاقائی معتبرین بھی موجود تھے چیف جسٹس نے اپنی تقریر کے آغاز پر جوڈیشل کمپلیکس کی بروقت تکمیل کو سراہا اور ان کے استقبال کے لیے موجود شرکاء کا بھی شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ میں مفاد عامہ کے تحت مقدمات چلتے ہیں ان کے لیے آئین کا آرٹیکل 199 موجود ہےجو ہائی کورٹ کے جج کو یہ اختیار دیتا ہے کہ مفاد عامہ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ہم سب ججز کی عدالت میں مفاد عامہ کے سینکڑوں کیس چلتے ہیں جس میں ہم مختلف شہروں کے اسپتالوں کے مسائل اساتذہ کے مسائل سڑکوں کے مسائل ڈیم کے مسائل اور سیلاب متاثرین کے مسائل پر داد رسی کرتے ہیں اور متعلقہ حکام کو عدالت میں طلب کر کے احکامات جاری کرتے ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی کراتے ہیں بسیمہ کے عوام کے اگر کوئی مفاد عامہ سے متعلق مسائل ہیں تو وہ محض ایک درخواست لے کر آئیں تو ہم اسے آئینی پٹیشن میں تبدیل کر کے اپنا آئینی اختیار استعمال کریں گے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جب تک ہم اونر شپ نہیں لیں گے اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوں گے ہمارے حکومتی ادارے اونر شپ نہیں لیتے ان سے وابستہ لوگ اونر شپ نہیں لیتے عوامی نمائندے ایم پی ایز اونر شپ نہیں لیتے جس کی وجہ سے مسائل جنم لے رہے ہیں ہم بطور جج نا تو نجات دہندہ ہیں اور نہ ہی نجات دہندہ بننا چاہتے ہیں ہم تو وہ کام کر رہے ہیں جو عدالت میں ہیں ہم مفاد عامہ میں کام کرنے کو تیار ہیں لیکن جو ہمیں تجربہ ہوا ہے وہ لیک آف اونر شپ کا ہے ہماری حکومت سے گزارش ہے کہ وہ تمام محکموں میں لیک آف اونر شپ کو دیکھے عدم معاونت کو ٹھیک کیا جائے اور ہر افسر اپنے پراجیکٹس کی اونر شپ لے جیسے ہم عدلیہ میں لے رہے ہیں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کا پروگرام شروع کیا تھا وہ آج تک ہم چلا رہے ہیں ہم نے جہاں جہاں جوڈیشل کمپلیکس کے لیے اونر شپ لی وہ کام مکمل ہوا آج عدلیہ کا کوئی پروجیکٹ فلاپ نہیں ہے نہ ہی فیل ہے کیونکہ ہم اونر شپ لیتے ہیں میں حکومت سے وابستہ لوگوں سے گزارش کروں گا خاص طور پر سیکرٹریز سے گزارش کروں گا کہ اپنے اپنے علاقوں میں جائیں اور سرپرائز وزٹ کریں اور ان کے فائز کئے گیۓ جو لوگ حکومت سے فوائد تو لے رہے ہیں لیکن حکومت کا کام نہیں کر رہے ہیں ان کے خلاف بیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کریں کوئی بھی ادارہ اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے ہر شخص قانون کا پابند ہے اگر میں بطور چیف جسٹس یا کوئی بھی جج کسی غلط معاملے میں ملوث ہو جائے تو سپریم جوڈیشل کونسل ہمارے خلاف کارروائی کر کے ہمیں باہر نکال دیتی ہے بالکل اسی طرح سرکاری ملازمین کے لیے بیڈا ایکٹ موجود ہے اگر کوئی سرکاری ملازم نااہل ہے بد عنوان ہے کام کرنے کی اس کی صلاحیت نہیں ہے یا ڈیوٹی سے انکار کر رہا ہے اور تنخواہ لے رہا ہے تو خدارا اس کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کرکے اس کو نکال باہر کریں اسی طرح آرمی کا ادارہ ہے اس کے اندر آرمی افسران کے لیے قوانین موجود ہیں انہوں نے اس موقع پر بسیمہ کو سیشن ڈویژن کا درجہ دینے کا بھی اعلان کیا جس کے تمام لوازمات پہلی فرصت میں پوری کریں گے انہوں نے کہا کہ سیشن ڈویژن سے یہاں کے لوگوں کے لیےکافی آسانیاں پیدا ہوجائنگی وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ میں بار کی سیاست کا حصہ نہ ہوں نہ بنوں گا بار کی سیاست نہ آتی ہے اور نہ ہی کبھی کی ہے بار کے آفس بیرئیر سب سے کہتا ہوں کہ خدا کے لئے ہمیں اداروں کو بنانے دیں بار کی پالیٹکس کر کے اداروں کو ذاتی مفاد کے لئے ہرگز استعمال نہ کریں میں اس کی ہرگز اجازت نہیں دوں گا ہم حقیقت کا سامنا کرنے والے لوگ ہیں اپنے اوپر بھی تنقید برداشت کرتے ہیں لیکن دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور ان کی غلطیوں سے درگزر بھی نہیں کر سکتے میں خدا کے آگے پسندیدہ بننا چاہتا ہوں میں اپنا حق ادا کروں گا چاہے اس کے لئے میں کسی کے لئے کتنا ہی ناپسندیدہ کیوں نہ ہو جاؤ ں وکلا سے گزارش کروں گا کہ محنت کریں ہم نے جسٹس ایٹ دی ڈور کے کنسیپٹ میں بہت دور تک عدالتیں پہنچائی ہیں بار کی وہ ترقی ابھی نہیں ہوئی ہے وکلاء ابھی تک دور دراز کے اسٹیشنوں میں اس طرح کی معاونت فراہم نہیں کر رہے ہیں جیسی ججز کو چاہیے تاکہ وہ اچھے فیصلے کر سکیں سیاست ضرور کریں لیکن سیاست کو اپنے پیشہ پر فوقیت نہ دیں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کو بڑھائیں تاکہ سائل کو داد رسی میں اور جج کو فیصلے میں آسانی ہو انہوں نے بار ایسوسی ایشن واشک کے لیے دو لاکھ روپے کا بھی اعلان کیا اور مزید کہا کہ ان کے دیگر مسائل بھی حل کئے جائیں گے مزید برآں چیف جسٹس نعیم اختر افغان نے جوڈیشل کمپلیکس کی ڈیجیٹل لائبریری کے لئے پرنٹر ڈی ایس ایل کے کنکشن اور کمپیوٹرز کا بھی اعلان کیا قبل ازیں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس نعیم اختر افغان جب بسیمہ پہنچے تو پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا جوڈیشل کمپلیکس کے افتتاح سے قبل چیف جسٹس نے بلوچستان ہائی کورٹ کے دیگر ججز کے ہمراہ بسیمہ میں ہسپتال، سکول اور کالج کا بھی دورہ کیا اور وہاں دستیاب وسائل اور موجود مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں



