
عظیم دانشور و ادیب راحت ملک اب ہم میں نہیں رہے
کوئٹہ۔ عظیم دانشور و ادیب راحت ملک اب ہم میں نہیں رہے نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، مرکزی سکریٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کھاکہ ملک کے عظیم دانشور و ادیب محترم راحت ملک صاحب اب ہم میں نہیں رہے۔ وہ ایک نفیس اور شائستہ انسان اور کردار کے مالک تھے پوری زندگی انسانیت کی سربلندی اور جمہوریت کی پاسداری میں جرات و استقامت کے ساتھ کھڑے رہے۔ بلوچستان کے عوام کی سیاسی آزادی اور قومی حقوق کے حصول میں اپنی پوری زندگی صرف کی، پوری صلاحیت و دانش کے ساتھ بلوچستان کے سیاسی کارکنوں کی تربیت میں کوئی کسر فروگزاشت نہیں کیا ہماوقت ان کی قلم اور عمل ملک کے مفلوک الحال اور پسے طبقات کی رہنمائی میں مصروف عمل رہے۔ قابل احترام راحت ملک صاحب کی رحلت سے نیشنل پارٹی اور مرکزی کمیٹی و کابینہ کو انتہائی دکھ و افسوس ہوا جس کا اظہار الفاظوں میں ممکن نہیں ہے وہ نیشنل پارٹی کے بانی اراکین اور بلوچ و بلوچستان کی سیاسی و فکری تحریک کے بنیادی پاسبانوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی کمی ہر لمحہ محسوس کی جائے گی۔ بلوچستان اپنے سیاسی و شعوری تحریک کے اہم قومی ادیب و دانشور اور قومی و شعوری رہنما سے محروم ہوا۔ نیشنل پارٹی اور اس کی مرکزی قیادت کو ان کی رحلت پر شدید رنج و افسوس ہوا۔ دعاگو ہیں کہ اللہ تعالٰی ہمارے عظیم قومی رہنما اور ساتھی کی مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں آسودہ مقام عطا فرمائے۔ آمین
Follow GoonjLive On Facebook , Twitter ,Linkedin, RSS and Youtube



