
پاک فوج اور اداروں کے ساتھ ہر اول دستے کا کردار ادا کریں گے ;جمعیت علمااسلام
کوئٹہ ،،جمعیت علمااسلام بلوچستان کے امیر وفاقی وزیر ہاسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے جتنے اس وقت محفوظ ہیں گزشتہ حکومت کے دور میں نہیں تھے پاکستان کی سا لمیت اور بقااور اسلامی نظام کے نفاذ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے ملک پر مشکل وقت اور اداروں کی جانب سے آئین اور قانون کے تحت اپنی ذمہ داری نبھانے اور سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے پاکستان پر کسی بھی برے وقت اور حالات میں ہم پاک فوج پاکستان اور مقتدر اداروں کے ساتھ ہر اول دستے کا کردار ادا کریں گے ہماری نوجوانوں اور عوام سے اپیل ہے کہ موجودہ حالات اور معاشی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک اور اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرکے ورغلانے والوں کا ساتھ دینے کی بجائے پاکستان اور اداروں کا ساتھ دیں۔ فتنہ کو ختم کرنے کے لئے جو بھی ہمارے ساتھ آئے گا ہم اس کو خوش آمدید کہیں گے۔ عمران خان پر حملے کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ہونی چاہئے تاکہ حقائق قوم کے سامنے لائے جاسکیں پاک فوج کی جانب سے فوج اور اداروں کو متنازعہ بنانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔کیونکہ نومبر کا مہینہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر سابق صوبائی وزیر عین اللہ شمس، عنایت اللہ خان بازئی، حاجی عبدالباری اچکزئی،واحد آغا سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ پاکستان کے جو حالات ہیں تمام دشمنوں کی نظریں مخصوص حالات ، معیشت ، امن وامان اور سیاسی حوالوں سے ملک پر مرکوز ہے گزشتہ 4، 5 سالوں سے ملک کے دشمنوں کی جانب سے ایسے لوگوں کو ملک پر مسلط کیا تھا جنہوں نے اس صورتحال کو پیدا کیا اور پاکستان کو اس ہوئے سیاست کو متنازعہ بناکر اسے معاشرے میں نفرت انگیز بناتے ہوئے گالی کلچر کو فروغ دیا ہے حالانکہ سیاست میں شائستگی اور رواداری سمیت مذاکرات کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن آج ہمارے ملک میں سیاست کو معاشرے میں گالی تصور کیا جارہا ہے کیونکہ گزشتہ کئی عرصے سے اس روش پر عمل پیرا ہوکر لوگوں کو اس نہج پر لے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ سابقہ دور میں کشمیر کو پلیٹ میں رکھ کر ٹرمپ کے توسط سے مودی کو دیا اس لئے اب جو بائیڈن اور امریکہ کی پالیسی پر کام کیا جارہا ہے اور اقتدار میں نکلنے کے بعد وہ چاہتے ہیں کہ پاک فوج کے سربراہ کی تعیناتی میں اپنا کردار اد اکریں حالانکہ اس کی تمام تر ذمہ داری آئینی اور قانونی حکومت اور پاک فوج کے ادارے کی ہے اگر تمام جماعتیں اس روش پر چل پڑی تو ہر کوئی اپنا آرمی چیف لگانے کی ضد کرے گا اس کے نومبر کے مہینے کی بڑی اہمیت ہے اور ان کا لانگ مارچ بھی ناکام ہوچکا ہے ہمارے قائد پر کتنے خود کش حملے ہوئے ہیں اور ہمارے درجنوں ساتھی شہید ہوئے ہم نے کسی پر الزام عائد نہیںکیا محترمہ بے نظیر بھٹو بھی شہید ہوئیں سب کو اپنے قاتلوں کا پتہ ہے لیکن انہوں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور ادارے کے اعلی آفیسر الزام عائد کیا ہے جبکہ حکومت ان کی ہے اور پنجاب میں جے آئی ٹی اس کی تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے اب ایسے ڈراموں اور الزامات سے کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ غیر یقینی کی صورتحال پیدا کرکے حالات کو خراب کیا جارہا ہے جبکہ یہ دور اقتدار میں کہتے تھے کہ ادارے اور حکومت ایک پیکج پر ہے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ غلط کام کرنے کے لئے غلط راستہ ہی اختیار کی ہے
Follow GoonjLive On Facebook , Twitter ,Linkedin, RSS and Youtube
عمران خان پر حملے کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ہونی چاہئے تاکہ حقائق قوم کے سامنے لائے جاسکیں مولانا عبدالواسع



