
نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سابق وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے بلوچستان کے سیاسی حالات اور امن وامان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کو سیاسی طور پر مفلوج بنادیا گیا ہے،صوبہ کے سیاسی اکابرین کی کمٹمنٹ اور اصولوں پر مبنی سیاست کو ذاتی مفادات کے لیے نیلام بنادیا گیا راتوں رات پارٹی بناکر اقتدار حوالے کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے بڑی باتیں اور تقاریر کرنے والے بھی ان کے حمایتی ہیں کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ ملکی سطح پر بلوچستان کا جو سیاست اور اصولوں کے حوالے جو نام تھا اس کو مفادات کے حوالے سے گندا کردیا گیا 2018کے بعد سے بلوچستان اسمبلی اور اس کے نمائندوں پر وفاقی سطح پر کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کوئی بھروسہ نہیں بدقسمتی سے ہمارے اکابرین کی جدوجہد پر پانی پھیر دیا گیا اس وقت صوبہ میں حکومت ہے نہ اپوزیشن،تمام نمائندے بلیک میلنگ کرکے مفادات حاصل کررہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ریکوڈک فروخت کرنے میں ان بریفنگ میں شریک تمام نمائندے شامل ہیں انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ ریکوڈک معاہدے کو پبلک کرنے کا حکم دے اور بلوچستان کے مفادات کے برعکس شقوں کو کالعدم قرار دے کوئٹہ کی حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے 9ایم پی اے ہونے کے باوجود لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں 4سال قبل سڑکوں کو توڑا گیا جس کی آج تک تعمیر نہ ہوسکی لوگ گردوغبار کیوجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں ،پنجگور کو تو ایک سلیکٹڈ نمائندے کے حوالے کرکے تباہ کردیا گیا پولیس اور لیویز کی چیک پوسٹوں کو فروخت کیا جاتا ہے پیسے کی حوس نے نام نہاد نمائندے کو اندھا کردیا بارڈر کا کاروبار تباہ کرکے لوگوں نان شبینہ کا محتاج بنادیا گیا اسٹیکر کے نام پر بھتہ خوری کی جارہی ہے امن وامان کی صورتحال پورے صوبہ باالخصوص پنجگور میں ابتر ہو ہوچکی ہے قتل چوری اور غارت گری عام ہوچکی ہے ،نیشنل پارٹی نے 2013میں قربانیاں دے کر امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنایا تھا لیکن اب دوبارہ پرانی صورت حال بنادی گئی ،عوام امن وامان کی صورتحال بہتر اور حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں تو نیشنل پارٹی کے جھنڈے تلے متحد ہو جائیں کیونکہ سیاسی طور پر مظبوط اور منظم جماعت ہی بلوچستان کا دفاع کر سکتی ہے سیلاب متاثرین کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 3ماہ گزرنے کے باوجود سیلاب متاثرین کی بحالی تو دور امداد تک نہ کی جاسکی اس وقت سیلاب متاثرین انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزاررہے ہیں ،کھانے کے لیے خوراک ہے نہ سر چھپانے کے لیے چھت ،سیلاب متاثرین کی امداد کو بھی سیاسی رشوت کے طور پر تقسیم کیا گیا ،اصل متاثرین کی بجاے من پسند افراد کو نوازا گیاموسم کی تبدیلی نے بھی سیلاب متاثرین کی مشکلات بڑھادیں اور وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں



