
بلوچستان میں رواں سال پندرہ جون سے لے کر 25 اگست تک مون سون کے پانچ اسپیلز کے دوران 120 ڈیمز ٹوٹ جانے سے بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصانات ہوئے، جس پر بلوچستان حکومت نے ڈیمز ٹوٹنے کی تحقیقات وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم سے کرانےکا فیصلہ کیا۔سی ایم آٹی ٹیم نے ڈیڑھ ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ چیف سیکرٹری بلوچستان کو ارسال کردی ہے رپورٹ کے مطابق حالیہ مون سون کے دوران 27 ڈیمز مکمل ٹوٹ گئے جب کہ 93 کو جزوی نقصان پہنچا جن کے اسپیل ویز متاثر ہوئے جو 27 ڈیمز مکمل طور پر ٹوٹے ان میں 12 فعال ڈیمز تھے جب کہ 15 زیر تعمیر اور جاری ترقیاتی اسکیموں کا حصہ تھے۔ ان ڈیمز کے ٹوٹنے سے بلوچستان حکومت کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 5 ارب روپے لگایا گیا ہے۔صوبے میں ٹوٹ جانے والے بیشتر ڈیمز کی تعمیر انتہائی ناقص تھی، قلعہ عبداللہ کا ماچکا ڈیم اور لورالائی کا شیر جان کڈی ڈیم ناقص تعمیر کی بدترین مثال تھے، ٹوٹنے والے بیشتر ڈیمز میں ٹیکنکل خامیاں تھیں، زیادہ تر ڈیمزکے اسپل ویز درست تعمیر نہیں کیے گئے تھے۔ ڈیمز کی تعمیر بڑی حد تک ناقص تھی اور بیشتر ڈیمز کی تعمیر کے لیے مقامات کا انتخاب غلط کیا گیا تھا
Follow Us On Facebook , Twitter and Youtube
وزیراعلیٰ بلوچستان معائنہ ٹیم ، ڈیمز ٹوٹنے کے حوالے سے اہم انکشافات
مون سون کے پانچ اسپیلز کے دوران 120 ڈیمز ٹوٹ جانے سے بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصانات ہوئے، جس پر بلوچستان حکومت نے ڈیمز ٹوٹنے کی تحقیقات وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم سے کرانےکا فیصلہ کیا۔سی ایم آٹی ٹیم نے ڈیڑھ ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ چیف سیکرٹری بلوچستان کو ارسال کردی ہے



