
کوئٹہ ،،بولان میڈیکل کالج اسٹوڈنٹس الائنس کے رہنمائوں آصف زہری، امجد اچکزئی ، نعمان وزیر نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ معاہدہ کے مطابق مطالبات پر عملدرآمد کیا جائے بصورت دیگر بولان میڈیکل اسٹوڈنٹس الائنس احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی انہوں نے کہا کہ بولان میڈیکل کالج کو صوبے کو بہترین ڈاکٹر فراہم کرنے میں تاریخی کردار رہا ہے اس کالج میں بلوچستان اور ملک بھر کے ہونہار محنتی طلباء اس امید کے ساتھ داخلے کے اہل قرار پاتے ہیں کہ وہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عوام کی خدمت کریں گے۔ کالج کی مخدوش حالات کی وجہ سے طلباء کی پڑھائی متاثر ہورہی ہے ہاسٹل میں بنیادی سہولیات دستیاب نہیں اور چھوٹے موٹے کام بھی طلباء کو خود کرنے پڑتے ہیں جس سے ان کا وقت ضائع ہوتا ہے ۔ مرمتی کام پر بھی توجہ نہیں دیتے اور سالانہ خطیر رقم اس مد میں خرچ کرنے کا عندیہ دیا جاتا ہے طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مطابق ہاسٹل میں رہائش کی گنجائش نہیں گزشتہ دو سالوں سے کالج کی مختلف لیبارٹریز میں تجربات کے لئے بنیادی سامان میسر نہیں طلباء کو کٹس اور سرنج جیب سے خریدنی پڑتی ہے حکومت کا سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے فنڈز خرچ کرنے کے باوجودطلباء سہولیات سے محروم ہیں اور جان بوجھ کر ادارے کو برباد کیا جارہا ہے گزشتہ دو سالوں میں 50کروڑ روپے سے زائد رقم ادارے کو ملی ملازمین ہی ٹھیکیداری کرنے لگے اور اداروں کے پیسوں سے اداروں کو اشیاء فروخت کرنے لگے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں اس لئے معیاری کام کا ہونا نا ممکن ہے موجودہ صورتحال میں کوئی پوچھنے والا نہیں کالج کی مینٹینس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہم نے مسائل کے حل کے لئے بارہا حکام کو آگاہ اور انتظامیہ نے مذاکرات کے بعدمعاہدہ کیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا اس لئے معاہدے پر عملدرآمد کرکے مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔



