
کوئٹہ: ایوا جی الائنس بلوچستان نے اسما جتک اور ان کے خاندان کے خلاف مبینہ دھمکیوں، جبری شادی کی کوششوں، اغوا، تشدد اور حالیہ قتل کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔تنظیم کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اسما جتک کے والد، ماسٹر عنایت اللہ جتک، کے قتل نے خواتین کے تحفظ، انسانی حقوق، قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بیان میں دعوی کیا گیا کہ متاثرہ خاندان کی جانب سے پہلے بھی تحفظ کے لیے متعدد درخواستیں اور مبینہ دھمکیوں کی شکایات کی جاتی رہی ہیں، جن پر مثر کارروائی نہیں کی گئی۔ایوا جی الائنس بلوچستان نے مطالبہ کیا کہ قتل، اغوا، دھمکیوں اور جبری شادی کے الزامات میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تحقیقات کے دوران اگر کسی فرد کی معاونت، سہولت کاری یا پشت پناہی ثابت ہو تو اس کے خلاف بھی بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔پریس ریلیز میں حکومتِ بلوچستان، محکمہ داخلہ، آئی جی پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسانی حقوق کے متعلقہ اداروں اور عدلیہ سے اپیل کی گئی کہ مقدمے کو ترجیحی بنیادوں پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے، متاثرہ خاندان اور گواہوں کو مثر سیکیورٹی فراہم کی جائے اور خواتین کے خلاف تشدد، جبری شادی، اغوا اور ہراسانی جیسے جرائم کی روک تھام کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔



