
کوئٹہ (یو این اے)صوبائی اسمبلی بلوچستان کے کمیٹی روم میں پبلک اکاونٹس کمیٹی اضطراری اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ضلع کونسل واشک کے مالی سال 2025-26 کے ترقیاتی بجٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں، غیر قانونی منظوریوں اور تضادات کا سخت نوٹس لیا گیا۔ اس اہم اجلاس میں پی اے سی کے اراکین زمرک خان اچکزئی، میر محمد خان لہڑی، رحمت صالح بلوچ، اور رکن صوبائی اسمبلی زابد علی ریکی سمیت سیکرٹری لوکل گورنمنٹ عبدالرف بلوچ، اسپیشل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال، اور چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل واشک الہی بخش ریکی نے شرکت کی۔یہ اجلاس رکن پی اے سی زابد علی ریکی کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا، جس میں انکشاف کیا گیا کہ ضلع کونسل واشک کے 71.500 ملین روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری اور تمام تر پراسیسنگ ضلع کونسل کے چیئرمین اور 13 منتخب اراکین کو مکمل طور پر اعتماد میں لیے بغیر کی گئی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ضلع کونسل سے منظور شدہ اصل بجٹ اور بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (BPPRA) کے پورٹل پر اپ لوڈ کی گئی دستاویزات کے درمیان واضح اور سنگین تضادات بھی پائے گئے ہیں۔اجلاس کے دوران کمیٹی کے سامنے تمام متعلقہ اصل اور مصدقہ ریکارڈ پیش کیا گیا، جس میں بجٹ تخمینے، اجلاسوں کا ایجنڈا و کارروائی، قراردادیں، اسکیم وار فنڈز، انتظامی و تکنیکی منظوریاں، پی سی ون (PC-I)، ٹینڈر ڈاکیومنٹس اور ورک آرڈرز کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پبلک اکانٹس کمیٹی عوامی وسائل کے شفاف، مثر اور آئینی و قانونی دائرہ کار کے اندر استعمال کو ہر صورت یقینی بنائے گی تاکہ یہ کارروائی آئندہ کے لیے ایک مثالی نظیر بنے اور احتساب و گڈ گورننس کو فروغ ملے۔معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے پی اے سی نے فوری طور پر ایک ذیلی کمیٹی (Sub-Committee) تشکیل دینے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس ذیلی کمیٹی کو تمام دستیاب اور متعلقہ ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لے کر 10 دنوں کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پی اے سی کے سامنے پیش کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے تاکہ ذمہ داران کا تعاقب کیا جا سکے۔



