بلوچستانتازہ ترین

بلوچستان کے 70فیصد علاقے خشک سالی کی لپیٹ میں، مون سون کمزور پڑ گیا

محکمہ موسمیات کا انتباہ، بارشیں چند اضلاع تک محدود، پانی اور زراعت کو سنگین خطرات

بلوچستان کے 70فیصد علاقے خشک سالی کی لپیٹ میں، مون سون کمزور پڑ گیا
بلوچستان کے 70فیصد علاقے خشک سالی کی لپیٹ میں، مون سون کمزور پڑ گیا

کوئٹہ: بلوچستان میں خشک سالی کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے، جہاں صوبے کے تقریبا 70 فیصد علاقے مسلسل بارشوں کی کمی کے باعث متاثر ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ رواں مون سون سیزن کے دوران بلوچستان میں بارشوں کا سلسلہ کمزور رہنے کا امکان ہے، جبکہ مون سون کی سرگرمیاں زیادہ تر مشرقی اور شمال مشرقی اضلاع تک محدود رہیں گی۔محکمہ موسمیات کے مطابق ژوب، شیرانی، موسی خیل، بارکھان، کوہلو، سبی، نصیر آباد، جعفر آباد، صحبت پور اور ڈیرہ بگٹی سمیت چند اضلاع میں کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ کوئٹہ، چاغی، نوشکی، خاران، واشک، پنجگور، کیچ، گوادر، پشین، مستونگ، قلات، خضدار اور دیگر بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے کم بارشوں اور غیر معمولی گرمی کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، جبکہ متعدد کاریز، چشمے اور چھوٹے آبی ذخائر خشک ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خشک سالی کے باعث زراعت، مویشی پالنے، قدرتی چراگاہوں اور پینے کے پانی کی دستیابی پر شدید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔زرعی ماہرین نے کسانوں کو دستیاب پانی کے محتاط استعمال، کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت اور جدید آبپاشی نظام، خصوصا ڈرپ اریگیشن اور اسپرنکلر سسٹم اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان پر زور دیا کہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امدادی اقدامات، نئے آبی ذخائر کی تعمیر، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبوں اور کسانوں و مویشی پال حضرات کے لیے خصوصی امدادی پیکج پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔محکمہ موسمیات نے عوام اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تازہ موسمی بلیٹن پر نظر رکھیں، پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں اور خشک سالی کے اثرات کم کرنے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button