بلوچستانتازہ ترین

نیب بلوچستان نے احتساب عدالتوں میں 65یفرنس جمع ہو گئے

ریفرنسزمیںسابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹرمالک،نواب رئیسانی ،نواب زہری ،قدوس بزنجو،سینیٹرقادر سمیت دیگر شامل ہیں

کوئٹہ(محمد عابد )نیب ترمیم کالعدم ہونے کے بعد بلوچستان میں احتساب عدالتوں میں 65سے زائدریفرنس واپس ہو گئے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں تین سابق وزرائے اعلی بلوچستان سمیت سابق اور حاضر پارلیمنٹرینز، بیوروکریٹس و دیگر با اثر افراد کے خلاف 65 سے زائد ریفرنسز بحال، نیب بلوچستان نے تمام کیسز کی تفصیلات عدالت میں جمع کرادیں، 30 سے زائد کیسز کی تحقیقات بھی دوبارہ شروع ہوںگے ۔واضح ر ہے کہ سپریم کورٹ نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے تحت عوامی عہدے رکھنے والوں کے خلاف نیب کے مقدمات کی واپسی اور نیب کے پاس پچا س کروڑ روپے سے کم کے مقدمات کی تفتیش نہ کرنے سے متعلق شقیں شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق نیب قانون میں تبدیلی کے بعد بند کئے گئے 486 ریفرنسز دوبارہ کھل گئے،7 سابق وزرائے اعظم،14وزرائے اعلی ،78وزرا ،176 پارلیمنٹرینز اور 114 افسران کے کیسز بحال ہوگئے۔ نیب حاضر سروس، ریٹائرڈ افسران، کاروباری شخصیات کے 450 سے زائد کیسز کی تحقیقات کا دوبارہ آغاز کرے گا 460 ریفرنسز،270 تحقیقات، 456 انکوائریاں اور 623 شکایات کی تحقیقات دوبارہ شروع ہوں گی ۔ذرائع کے مطابق ملک کے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی نیب ترامیم کالعدم ہونے کے بعد 50ریفرنسز واپس ہوگئے جن میں سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ، نواب ثناء اللہ زہری ،میرعبدالقدوس بزنجو اور نواب اسلم رئیسانی ،نوابزادہ لشکری رئیسانی ،سینیٹرعبدالقادر، یوسف بلوچ سمیت دیگر کے نام شامل ہیں جبکہ نیب کی جانب سے ترامیم کے بعد بند کی گئی 60انکوائریاں بھی دوبارہ شروع کی جائیںگی ذرائع کے مطابق اب تک کسی کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیاگیاہے ۔یادرہے کہ سابق حکومت کے دور میں نیب قوانین میں ترامیم کے ذریعے اربوں روپے مالیت کے سینکڑوں کیسز پر پیش رفت روک دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد چئرمین نیب کی زیر صدارت اعلی سطح کے اجلاس میں تمام ریجنز کے سربراہان کو نیب قوانین میں ترامیم کے بعد بند ہونے والے کیسز کو ترمیم سے پہلے والی حالت میں دوبارہ شروع کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھی جس کے بعد ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان کے احکامات پر نیب کی لیگل ٹیم نے احتساب عدالت کوئٹہ میں تقریبا 65 کیسز کی فائلیں جمع کرادیں ہیں۔ جبکہ ذرائع کے مطابق ڈی جی نیب بلوچستان نے 30 سے زائد کیسز پر بھی فوری کارروائی کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔دوبارہ شروع کئے گئے کیسز میں سابق وزرائے اعلی، متعدد پارلیمنٹرینز سمیت گریڈ 20 اور 21 کے افسران اور کئی با اثر شخصیات بھی شامل ہیں۔اربوں روپے مالیت کرپشن کیسز میں مختلف محکموں بشمول این ایچ اے۔ کسٹمز، کیو ڈی اے، ریونیو، مائنز اینڈ منرلز خوراک، پی ڈی ایم اے اور محکمہ صحت کے کرپٹ افسران اور ماتحت عملے کے خلاف تحقیقات اور ریفرنسز پر کام شروع ہو چکا ہے۔علاوہ ازیں عوام الناس سے فراڈ کرنے والی متعدد ہاوسنگ سوسائٹیز کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ بلوچستان میں تین احتساب عدالتوں میں سابق حکومت کے احکامات کے بعد ایک احتساب عدالت ختم کردی گئی ہے جبکہ دو میں سے ایک احتساب عدالت کے لیے بھی حال ہی میں معزز جج کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے اور دوسری عدالت کے جج کی تعیناتی ہونا باقی ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب سپریم کورٹ کی جانب سے بند کیسز پر کام کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں، ججز کی تقرری انتہائی ناگزیر ہو گء ہے تاکہ ان کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button