بلوچستانتازہ ترین

قدوس بزنجو کودستخط کیلئے فوڈ پانڈا کے ذریعے اسلام آباد لایاگیا

قومی اقتصادی کونسل میں قدوس بزنجو کودستخط کیلئے فوڈ پانڈا کے ذریعے اسلام آباد لایاگیا،سرداراخترمینگل

پی ٹی آئی کیساتھ تحریری معاہدہ پر عدم عمل درآمد اور جام کمال کا ارکان اسمبلی پر بکتر بند گاڑیاں چڑھانے کے خلاف جمہوری اقدام اٹھایا
قومی اقتصادی کونسل میں قدوس بزنجو کودستخط کیلئے فوڈ پانڈا کے ذریعے اسلام آباد لایاگیا،سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی
پی ٹی آئی اور قدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمہوری عمل تھا ،راجہ جواد ایڈووکیٹ کی شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کواجاگرکرنے پرتعریف تو کی جاتی ہے لیکن عملی اقدامات نہیں ہوتے،پی ٹی آئی اور قدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمہوری عمل تھا ،ایک کیساتھ تحریری معاہدہ پر عدم عمل درآمد اور دوسرے کا ارکان اسمبلی پر بکتر بند گاڑیاں چڑھانے کے خلاف جمہوری اقدام اٹھایا،بلوچستان کی آبادی کو 2کروڑ سے کم کی گئی جس کی ذمہ داری میرعبدالقدوس بزنجو اور صادق سنجرانی پر عائد ہوتی ہے ،قدوس بزنجو کودستخط کیلئے فوڈ پانڈا کے ذریعے اسلام آباد لایاگیا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پرمرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سابق ایم پی اے ملک نصیر احمد شاہوانی مرکزی فائنانس سیکرٹری و سابق ایم پی اے اختر حسین لانگو مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی خواتین سیکرٹری و سابق ایم پی اے شکیلہ نوید دہوار سینٹرل ایگزیکٹیو کے اراکین و ضلعی صدر بی این پی کوئٹہ غلام نبی مری ، جمیلہ بلوچ،ثانیہ حسن کشانی،شمائلہ اسماعیل مینگل،پروین لانگو شریک تھے ۔اس موقع پربلوچستان کے ماہر قانون راجہ جواد ایڈوکیٹ نے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی مثال اس بچے جیسی ہے جس سے کام سب لیتے ہیں مگر سرپر ہاتھ کوئی نہیں رکھتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی این پی نے عوام کی حقیقی ترجمانی کی ہے ۔اس مو قع پر سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کی 2 کروڑ آبادی سے قومی اسمبلی کی 6 نشستیں اور این ایف سی میں حصہ بڑھ سکتا تھا لیکن اس صوبے کے مسئلے کو آج تک کسی نے سمجھا ہی نہیں ،لاکھوں کی آبادی پر کٹ لگادیاگیا ،جب بلوچستان کے مسائل پر پارلیمنٹ میں آواز بلند کیاجاتاہے وہاں تعریف تو ہوتی ہے لیکن عملی طور پر ہوتا کچھ نہیںجبکہ بلوچستان کے مسائل عملی حل مانگتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سننے میں آیا ہے کہ قدوس بزنجو کو پارسل یافوڈ پانڈا کے ذریعے اسلام آباد لایا گیا اور دستخط کروائے گئے ،بلوچستان کی آبادی کو کم کرنے کے ذمہ دار میرعبدالقدوس بزنجو اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی بہت لاڈلی تھی لیکن ہم کبھی لاڈلے نہیں رہے اور 70 سالوں سے ہم مزاحمت ہی کر رہے ہیں پی ٹی آئی کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر تحریک عدم اعتماد میں حصہ لیاہے ،پی ٹی آئی کو جو لوگ لائے تھے پی ٹی آئی نے انہی پر ہاتھ ڈالا اگر یہ بلوچستان والے کرتے تواب تک لاشیں بھی مل چکی ہوتی ،ملک بھر میں مہنگائی کا ذمہ دار نیشنل پارٹی سمیت پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں قصوروار ہیں اس سلسلے میں بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے طورپر سزا کیلئے تیار ہیں ،انہوں نے کہاکہ جام کمال کی حکومت کو کندھا دے کر منزل مقصود تک پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ تربت میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جو لاشیں ملی اور لوگ قتل ہوئے اس سلسلے میں تنظیمی طورپر ہر قسم کے احتجاج میں بی این پی شامل ہونگی ،افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈرز سے اثرات بلوچستان پر مرتب ہوتے ہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر تشکیل کمیٹی کی سربراہی ملی تھی جس کے نتیجے میں ہمارے قبیلے کے خلاف ڈیتھ اسکواڈ سرگرم کیاگیا، ،نگران حکومت اورالیکشن کمیشن 90دن میں پابند ہے کہ وہ بروقت انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں ۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button