
میر عبدالقدوس بزنجو کا انکار
کوئٹہ(یو این اے ) نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان کیلئے میر علی مردان ڈومکی کی نامزدگی پھر تعطل کا شکار ہو گئیں آئینی وقت ختم ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد ہو گیا وزیراعلی قدوس بزنجو نے ڈومکی کی نامزدگی کی سمری پر دستخط نہیں کئے اس سے قبل جام کمال گروپ اور جمعیت نے ڈومکی کی نامزدگی پر اتفاق کیا تھا ، آئینی وقت بارہ بجے سے قبل جام کمال اور ملک سکندر ایڈووکیٹ اور دیگر کی قدوس بزنجو سے ملاقات نہ ہوسکی.
آئینی کے تحت اب اسپیکر اسمبلی حکومت اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینگے نگران وزیراعلی کیلئے دونوں طرف سے دو دو نام مانگے جائینگے جس پر پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کریگی ،چھ رکنی پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے تین تین اراکین شامل ہونگے یا مساوی تعداد ہوگی۔پارلیمانی کمیٹی تین دونوں میں فیصلہ نہ کرسکے تو معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائیگا جو 48 گھنٹوں میں فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔
بلوچستان میں نگران وزیراعلیٰ کیلئے اب تک درجن بھر نام میڈیا کی زینت بنے ہیں تاہم اب تک اس حوالے سے مبصرین متضاد خیالات کے شکار ہیں میڈیا کی زینت بننے والے ناموں میں علی حسن زہری ،ملک شاہ گورگیج ،سابق رکن صوبائی اسمبلی پرنس احمد علی احمدزئی ،سیاستدان علی مردان ڈومکی ،سینیٹر کہدہ بابر، بلوچستان نیشنل پارٹی کے میرحمل کلمتی سابق رکن قومی اسمبلی انجینئر میرعثمان بادینی ،سابق بیوروکریٹ شبیر مینگل ،سینیٹر میرسرفراز بگٹی ،سوڈان میں پاکستانی سفیر بہروز ریکی، نصیر بزنجو اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے بھائی اعجاز سنجرانی بھی نگراں وزیراعلی کی دوڑ میں شامل ہیں.میر عبدالقدوس بزنجو کا انکار
تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ میڈیا کی زینت بننے والے نام نگران وزیراعلیٰ کے دوڑ سے آئوٹ سکتے ہیں اور وفاق کے بعد بلوچستان میں بھی وزارت اعلیٰ کے انتخاب پر ایک بڑا سرپرائز مل سکتاہے ۔دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بھی اسلام آباد میں ڈیرے ڈال دئیے ہیں اور اپنے قریبی ساتھی کو وزیراعلیٰ بنانے کے تگ ودو میں مصروف ہیں اس کے علاوہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال سے بلوچستان ہائوس میں صوبائی اسمبلی میں حکومتی واپوزیشن ارکان کی بڑی تعداد نے ملاقات بھی کی ،ملاقات میں جام کمال کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ بلوچستان کیلئے تجویز کردہ دونوں شخصیات ملاقات میں موجود تھیں ۔



