
کوئٹہ(یو این اے )ناموس صحابہ و اہلبیت ترمیمی بل کے منظور ہونے سے صحابہ و اہلبیت کی ناموس کو قانونی تحفظ ہواہے ان خیالات کا اظہار سنی علما کونسل بلوچستان کے صدر مولانا محمد رمضان مینگل صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا ثنااللہ فاروقی مرکزی رہنما حافظ محمد قاسم فاروقی مفتی کلیم اللہ حیدر ی مولانا عبد الرحیم ساجد مولانا سید مقبول الرحمن شاہ ھاشمی قاری محمد ایوب معاویہ نے کوئٹہ کے مختلف مساجد میں تحفظ ناموس صحابہ واھلبیت بل کے ایوان بالا سینٹ سے متفقہ منظور پر یوم تشکر کیطور پر مناتے ہوئے اپنے خطبات میں کہا کہ قومی اسمبلی سے متفقہ منظور ہونے کے بعد ایوان بالا سینٹ سے منظور ہونے والا ناموس صحابہ و اہلبیت ترمیمی بل صحابہ کرام،اہلبیت عظام، ازواجات مطہرات کی عزت و ناموس کے تحفظ کا بل ہے۔اس بل کے پاس ہونے سے ملک پاکستان سے فرقہ واریت و بدامنی کا خاتمہ ہوگا اور ملک میں امن و امان قائم ہوگا۔اور گستاخوں کو قانونی لگام ڈلے گی۔ناموس صحابہ و اہلبیت ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے در اصل توہین صحابہ و اہلبیت کی اجازت مانگ رہے ہیں ناموس صحابہ و اہلبیت ترمیمی بل کے منظور ہونے سے صحابہ و اہلبیت کی ناموس کو قانونی تحفظ حاصل ہوا ہے۔ناموس صحابہ و اہلبیت ترمیمی بل کی حفاظت جان پر کھیل کر کریں گے۔اس بل کی مخالفت کرنے والے آئین پاکستان اور دین کے وفادار نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ناموس صحابہ و اہلبیت ترمیمی بل کے محرک ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی،سابق وفاقی وزیر مفتی عبدالشکور شہید، ڈپٹی سپیکر اسد دارانی و دیگر اراکین قومی اسمبلی سمیت تمام اراکین ایوان بالا سینٹ بالخصوص قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن، چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی،سینیٹر حافظ عبدالکریم،سینیٹر مشتاق احمد، سینیٹر عبدالغفور حیدری، سینیٹر مولانا فیض محمد، سینیٹر کامل علی آغا،معزز علما کرام،نامور صحافی، وکلا سمیت جن احباب نے بھی اس بل کو منظور کرانے کے لیئے کوششیں کیں ہیں ان کو دل کی اتھا گہرایوں سے مبارکباد پیش کرتی ہے۔



