بلوچستانتازہ ترین

مردم شماری میں کٹوتی کی چھری پشتون اضلاع پر گھما دی گئی

بلوچستان کی مردم شماری میں کٹوتی کی چھری پشتون اضلاع پر گھما دی گئی

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کی مردم شماری میں کٹوتی کی چھری پشتون اضلاع پر گھما دی گئی ۔بلوچ اضلاع میں آبادی 6 سے 10 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ پشتون بڑے بڑے اضلاع میں 1 سے 4 فیصد تک اضافہ ظاہر کیا گیا۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے اعداد وشمار کے مطابق پشتون اضلاع کی آباد کم ظاہر کی گئی ہے کٹوتی زیادہ ترین پشتون اضلاع پر کی گئی ہے بلوچ اضلاع میں آبادی 6 سے 10 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ پشتون بیلٹ کے بڑے بڑے اضلاع میں 1سے 4 فیصد تک اضافہ ظاہر کیا گیا خاران اور پنجگور کی آباد تقریبا ڈبل ظاہر کی گئی ہے جبکہ قلعہ عبداللہ اور چمن جیسے اضلاع میں آباد صرف 30/30 ہزار بڑھائی گئی ہے لورلائی کی آبادی میں بھی صرف 30 ہزار کا اضافہ ظاہر کیا گیا ہے موسی خیل کی آبادی میں صرف 17 ہزار اضافہ ظاہر کیا گیا ہے پشین جیسے بڑے ضلع کی آبادی تقریبا 95 ہزار اضافہ ظاہر کیا گیا جبکہ پنجگور کی آبادی میں 1 لاکھ 94 ہزار کا اضافہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ خاران کی آباد پہلے 1لاکھ 62 ہزار تھی جو اس بار 97 ہزار اضافہ کرکے 2 لاکھ 60 ہزار ظاہر کی گئی ہے۔ڈویژن کی سطح پر آبادی دیکھی جائیں تو2017ء میں کوئٹہ قلات ڈویژن کی آبادی 21لاکھ 74ہزار722تھی جو اب 27لاکھ 21ہزار18ہوگئی ،لورالائی ڈویژن کی آبادی 2017ء میں 7لاکھ 35ہزار 691 جبکہ اب 8لاکھ 70ہزار ہوگئی ہے ،مکران ڈویژن کی آبادی 2017ء میں 14لاکھ 84ہزار788جبکہ موجودہ 18لاکھ 75ہزار872 ہے ،نصیرآباد ڈویژن کی 2017ء میں 16لاکھ 61ہزار77جبکہ اب 20لاکھ 44ہزار21،کوئٹہ ڈویژن کی آبادی 2017ء میں 37لاکھ 64ہزار730اب 42لاکھ 59ہزار163، رخشان ڈویژن کی آبادی 7لاکھ 43ہزار942جبکہ اب 10لاکھ 40ہزارایک ،سبی ڈویژن کی آبادی 2017ء میں 9لاکھ 63ہزار941جبکہ اب 11لاکھ 56ہزار784 اور ژوب ڈویژن کی آبادی 8لاکھ 6ہزار238جبکہ اب 9لاکھ 27ہزار 579ہے ۔مجموعی طورپر 3ڈویژنز میں ایک لاکھ سے لیکر 1لاکھ 90ہزار تک اضافہ جبکہ 5ڈویژنز میں 3لاکھ سے لیکر 5لاکھ 40ہزار تک اضافی آبادی دکھائی گئی ہے جبکہ سال 2017میں یہ تفریق 1لاکھ سے 2لاکھ کے درمیان ہے ۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button