
کوئٹہ(یو این اے )جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان چیف آف ساراوان نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہاہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے بلوچستان کی صورت اور حال دونوں خراب ہے ،ژوب سے لیکر چمن تک ،کچھی ،جھالاوان ونوشکی میں فساد ہی فساد ہے ،ملکی مالی بحران سے نکلنے کیلئے فنانشل مینجمنٹ کی ضرورت ہے ،روزگار کیلئے سرکاری اور پرائیوٹ دونوں لازمی ہے لیکن بلوچستان میں پرائیوٹ سیکٹر ہے ہی نہیں ۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہاکہ بلوچستان کی صورت بھی نہیں صحیح اور نہ ہی حال بہتر ہے جس کی وجہ اسٹیبلشمنٹ ہے صوبے میں جگہ جگہ فساد، کچھی ،جھالاوان،نوشکی اورژوب سے لیکر چمن تک فساد ہی فساد ہے کسی بھی جگہ امن نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ بے روزگاری اتنی جلدی ختم نہیں ہوگی کسی بھی ملک میں سرکاری اور پرائیوٹ سطح پر ملازمت دی جاتی ہے لیکن بلوچستان میں پرائیوٹ شعبہ ہے ہی نہیں ضروری ہے کہ ایک مکمل فنانشل مینجمنٹ بنایاجائے کیونکہ اگر اسی طرح رہا تو تمام بجٹ تنخواہوں میں چلی جائے گی اور ترقیاتی مد میں بجٹ نہیں ہوگاوفاقی حکومت کی بھی مالی حالت کمزور ہے اور وزیراعظم کچکول لیکر مختلف ممالک کے پاس جارہے ہیں۔ فنانشل مینجمنٹ ملک کی ترقی وخوشحالی کیلئے لازمی ہے۔



