
پاکستان کا مستقبل پائیدار جمہوریت ہیں لیکن پنجہ آزمائی کی وجہ سے ملک مشکلات کا شکار ہیں،اسد بلوچ
پیراشوٹ قانون سازی نہیں کر سکتی ہمیں اپنی اناپرستی نے تباہ کررکھاہے وسیع تر مفاد میں ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں
وفاق نے 500 اسکیمات کو ادائیگی نہیں کی ،پی پی ایل 50 ارب قرض دار ہیں وہ دینے کے موڈ میں نہیں ہے ،صوبائی وزیر
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)کے مرکزی صدر وپارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر زراعت راجی راہشون میر اسد اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل پائیدار جمہوریت ہیں لیکن پنجہ آزمائی کی وجہ سے ملک مشکلات کا شکار ہیں انتخابات میں آنے والے پیراشوٹ قانون سازی نہیں کر سکتی ،ہمیں اپنی اناپرستی نے تباہ کررکھاہے وسیع تر مفاد میں ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں بلوچستان کے حقوق کا خیال نہ رکھا گیا تو بدامنی پھیلے گی وفاق سے رقم نہ ملی تو صوبے میں ترقیاتی منصوبے شروع نہیں ہوسکتے آئین میں 18 ویں ترمیم کے تحت بلوچستان کا حصہ محفوظ ہیں 500 اسکیمات کو ادائیگی نہیں ہوسکی پی پی ایل 50 ارب قرض دار ہیں وہ دینے کے موڈ میں نہیں ہے جمہوری عمل کو چلنے دیا جائے اور 25کروڑ عوام جن کو منتخب کرے انہیں اقتدار کے ساتھ اختیار بھی دیناچاہیے ۔سیلاب سے صوبہ بھر میں اربوں روپے کا نقصان ہوا لیکن وفاق نے دس ارب دینے تھے لیکن نہیں دئے گئے وفاق ہمارے زخموں پر مرہم رکھتے لیکن ہمارے حصے کی رقم تک نہیں دی گئی ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی اربوں کے قرضے لیے گئے لیکن بلوچستان میں ایک پائی تک خرچ نہیں کی گئی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عبدالوکیل مینگل، عبدالوحید بلوچ، ڈاکٹر عبید مری، ڈاکٹر ناشناس لہڑی ودیگر بھی موجود تھے ۔میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ 2023-24 کے بجٹ سے متعلق پاکستان جمہوری ملک جمہوری نظام کے تحت چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس وقت پاکستان مالی بحران کی کیفیت سے دو چار ہیں بلوچستان میں بھی بجٹ بننے جا رہا ہے بلوچستان وہ بڑا صوبہ جہاں قدرتی وسائل سونا چاندی گیس سمندر ہیں لیکن یہاں کے لوگ بنیادی تعلیم صحت اور روزگار سے محروم ہیں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں اتنے فنڈز نہیں کہ 2 کروڑ 10 لاکھ لوگوں کو سہولیات فراہم کر سکے پاکستان کا مستقبل پائیدار جمہوریت ہیں لیکن پنجہ آزمائی کی وجہ سے ملک مشکلات کا شکار ہیں جمہوری عمل کو چلنے دیا جائے، انتخابات میں آنے والے پیراشوٹ قانون سازی نہیں کر سکتی آئندہ انتخابات میں صاف و شفاف طریقے سے ہی قابل و ایماندار لوگ آسکیں گے، سیلاب کے دوران بڑے نقصانات ہوئے بلوچستان کے زمینداروں کے 300 ارب روپے کے نقصانات ہوئے مرکز نے ایک روپیہ نہیں دیا اعلان 16 ارب کا ہوا جو کم ہوتے ہوتے صفر پر پہنچ گئی انہوں نے کہا کہ پنجگور میں 2 ارب کے کھجور تباہ ہوئیں ترقیاتی بجٹ سے کٹوتی کرکے زمینداروں کو گندم کی بیج دی گئی۔ آئین میں 18 ویں ترمیم کے تحت بلوچستان کا حصہ محفوظ ہیں 500 اسکیمات کو ادائیگی نہیں ہوسکی پی پی ایل 50 ارب قرض دار ہیں وہ دینے کے موڈ میں نہیں ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے 10 ارب کا اعلان کیا ایک روپیہ بھی نہیں ملا، جینوا میں ڈونر کانفرنس کی گئی جہاں 40 ممالک نے حصہ لیا 10 ارب ڈالر امداد کا اعلان ہوا لیکن بلوچستان محروم رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 75 سالوں میں بیلنوں کے حساب سے قرض لیا لیکن بلوچستان میں ایک روپیہ خرچ نہیں ہوا 430 ارب روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے رکھے گئے ہیں ہم کہتے ہیں کہ لوگوں کو فقیر نہیں بنایا جائیں اگر 430 ارب میں بلوچستان کو حصہ ملتا تو اس سے بڑی فیکٹریاں لگ سکتی تھی ہزاروں روزگار کے مواقع فراہم کئے جا سکتے تھے۔ بلوچستان میں کوئی منصوبہ بندی نہیں لوگوں کو بھکاری بنا کر ترقی ممکن نہیں، بنگلہ دیش نے 71 ارب ڈالر کا بجٹ پاس کیا جن کے پاس سمندر کپاس اور چاول کے علاہ کچھ نہیں پاکستان میں بے پنا مواقع موجود یہاں پارٹیاں بنانے کا ریس لگا ہوا ہے آنا کا مسئلہ بنایا گیا ہے، سب مل بیٹھ کر خاص کر عوام اور سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں کہ مل کر آگے بڑھیں تا کہ ہم ایک بہتر سے بہتر مستقبل کا خواب دیکھ سکے۔ قرض بہت سے ممالک نے لئے اور منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرکے قرض ادا بھی کیا جب یہاں قانون کی بالادستی ہوگی تو ہمیں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔ بلوچستان میں 50 ہزار نوجوان بے روزگار ہیں اگر انہیں روزگار فراہم نہیں کیا تو انارکلی پیدا ہوگی لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا ہوگی لا اینڈ آرڈر کے نام پر پیسے تعلیم پر خرچ کی جائیں۔ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ چمن کراچی شاہراہ 75 سال کے باوجود مکمل نہیں، بلوچستان اسمبلی میں تو اکثریت پیراشوٹ ہیں کیسے قانون سازی کر سکیں گے۔ جمہوری طریقے سے سننے کی صلاحیت ہوں تو یہ کہتے ہیں کہ یہاں جمہوریت نہیں بلکہ پنجہ آزمائی کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔ اقتدار کے ساتھ اختیار بھی ہونا چاہیے۔ بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے ارکان کابینہ میں موجود ہیں انہیں آواز بلند کرنا چاہیے۔ اگر کسی ڈیپارٹمنٹ کو مرکز سے پیسے ملتے ہیں تو انہیں استعمال کرنا چاہیے اگر پیسے لیپس ہوتے ہیں تو مذکورہ محکمے کے وزیر سیکرٹری و دیگر ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے



