بلوچستانتازہ ترین

بلوچستان میں 20گھنٹے اور کم سے کم 4گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے

کوئٹہ اورمکران ڈویژن سمیت بلوچستان بھر میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری

کوئٹہ(یو این اے )صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اورمکران ڈویژن سمیت بلوچستان بھر میں لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری سب سے زیادہ 20گھنٹے اور کم سے کم 4گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے ،کیسکو نے منطق اپنایاہے کہ بلوچستان کیلئے وافر مقدار میں بجلی موجود ہیں لیکن جہاں ریکوری 90فیصد وہاں کم لوڈ شیڈنگ اور جہاں90فیصد سے ریکوری کم ہے تووہاں زیادہ لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے جبکہ مکران ڈویژن کو ایران سے بجلی فراہم کی جاتی ہے جہاں10سے12گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ ،پشین ،دکی ،چمن ،قلعہ عبداللہ ،ڈیرہ اللہ یار، اوستہ محمد، سوراب، صحبت پور، قلات ،نوشکی ،پنجگور ،حب،لسبیلہ ،چاغی ،لورالائی ،جھل مگسی ،ژوب،ہرنائی، زیارت، خاران ،سبی،کوہلو سمیت مکران ڈویژن میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔جس کے مطابق بلوچستان کے ضلع حب میں شہری ودیہی فیڈرز پر7گھنٹے ،چاغی ،دالبندین اور نوکنڈی میں پہلے مکمل بجلی تھی اب6گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ،اس کے علاوہ ضلع قلعہ عبداللہ میں 24گھنٹوں میں صرف4گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے جبکہ سبی کے شہری علاقوں میں لوڈ شیڈنگ 10 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 16سے18گھنٹے ،لورالائی سٹی ایریا میں 11گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 6گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے اسکے علاوہ فالٹ یا ٹرپنگ کی مد میں بھی سٹی ایریا میں ایک یا دو گھنٹے مزید بجلی کم ملتی ہے،جھل مگسی میں14گھنٹے لوڈ شیڈنگ ،وندر میں بجلی صبح آٹھ سے صبح دس تک دو گھنٹے اور شام چار سے شام چھ تک لوڈ شیڈنگ رہتی ہے اس کے علاہ دن اور رات کے وقت ٹرپ ہو جاتی ہے ضلع دکی میں سٹی فیڈر پر 24 گھنٹے میں 10 گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے جبکہ 14 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ اور سٹی فیڈر کے علاوہ باقی تمام فیڈرز پر 24 گھنٹے میں 6 گھنٹے بجلی فراہم کیجاتی ہے اور 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے،خاران میں 6گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے ژوب میںشہری فیڈر شاہین چوک فیڈر، پانی تقسیم فیڈر اور سٹی فیڈرپر 16 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہے اور تمام دیہی فیڈروں پر 20 گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ ،تحصیل سنجاوی میں 14گھنٹے لوڈ شیڈنگ ،اوستہ محمد میں24میں صرف8گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے ،واشک کے تحصیل ماشکیل میں 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے ، اور سب تحصیل ناگ میں گرڈ اسٹیشن کا کام جاری ہے ابھی تک بجلی کی نظام نہیں ہے،خضدار میں صبح 5بجے سے 6بجے ،پھر 10بجے سے لیکر ڈھائی بجے ،شام کو 6بجے تک پھر رات کوایک بجے چلی جاتی ہے مجموعی طورپر 13گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے ۔ نوشکی شہر سٹی ون اور ٹو فیڈرز میں دس گھنٹے لوڈشیڈنگ سٹی تھری میں چودہ اور دیہی فیڈر میں اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ،پنجگور میں 24میں20گھنٹے لوڈشیڈنگ ،قلات میں پہلے سٹی فیڈرز پر 13 گھنٹے لوڈشیڈنگ تھی اب تین دنوں سے 14 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے جبکہ دیہی فیڈرز پر 18 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے دیہی فیڈرز کو صرف 6گھنٹے بجلی فراہمی ہورہی ہے ،صحبت پور میں سٹی فیڈر پر 24میں سے 6گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے ،سوراب میں 24 گھنٹوں میں سوراب سٹی کو 12 گھنٹے جبکہ دیہی فیڈرز کو صرف 6 گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے ،گڈانی میں24گھنٹے میں 6گھنٹے بجلی فراہم کی ،ڈیرہ اللہ یار شہر میں تین فیڈر ہیں، سٹی فیڈر پر یومیہ 12 گھنٹے اعلانیہ جبکہ 16 سے 18 گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، جعفر اور بیبرگ فیڈرز پر اعلانیہ 12 گھنٹے اور غیر اعلانیہ 14 سے 16 گھنٹے۔ دیہی علاقوں کے حفیظ آباد فیڈر پر 10 سے 12 گھنٹے اعلانیہ، روجھان میں 6 سے 8 گھنٹے اعلانیہ جبکہ دیگر دیہات میں 18 سے 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے چمن شہر و گردنوح میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ 16 گھنٹے ،کوہلو میں12گھنٹے ،ہرنائی میں 13گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے ۔مکران ڈویژن جو گزشتہ دو دہائیوں سے ایران سے بجلی کے حوالے سے منسلک ہیں وہاں شہری فیڈرز پر10گھنٹے جبکہ 12سے 18گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے ،کیسکو نے موقف اپنایاہے کہ کیسکو کے پاس وافر مقدار میں موجود ہے جتنی بلوچستان کو بجلی ضرورت ہوتی ہے وہ نیشنل گرڈ اسٹیشن سے لی جاتی ہے کیسکو کے مطابق بلوچستان میں لوڈشیڈنگ کی اہم وجہ ریکوری ہے 90فیصد ریکوری ہے وہاں کم ہے جہاں ریکوری کم ہے وہاں لوڈشیڈنگ زیادہ ہے ۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button