
ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں ایرانی پیٹرول نہیں البتہ پاکستانی پیٹرول فی لیٹر264سے 267روپے تک فروخت کی جارہی ہے
15روپے پاکستانی ایران کے 2200ریال کے برابر ہے،ایرانی اسمگل شدہ پیٹرول کے قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں
کراچی ،راولپنڈی ،اسلام آباد،ملتان ،فیصل آباد،لاہور، سیالکوٹ کے فیکٹریوں میں ایرانی ڈیزل اور پیٹرول کی ترسیل جاری ہے،ڈیلرز
کوئٹہ(یواین اے)بدقسمت بلوچستانی جنہیں 15روپے فی لیٹر ایرانی پیٹرول 160سے 220تک خریدنا پڑتی ہے ،اگر چیک پوسٹوں پر بھتہ نہ لیاجائے توفی لیٹر100سے120روپے تک فروخت ہوسکتی ہے ،اب تو ٹریفک پولیس اور گشت کرنے والے پولیس اہلکار بھی بھتہ وصول کرنے لگے ہیںکوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان ضلعی انتظامیہ کے ناک کے نیچے اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول فی لیٹر 160سے 200روپے فی لیٹر فروخت کی جارہی ہے ،ایران میں اس وقت ایرانی پیٹرول پاکستانی 15روپے فی لیٹر ہے اور وہاں سے ڈیلرز 2200ایرانی ریال جو پاکستانی 15روپے بنتے ہیں خریدتے ہیں اور پھر ایران سے براستہ بارڈر پاکستان اسمگل کیاجاتاہے لیکن اسمگل شدہ پیٹرول کے قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں اور وہ 15روپے سے بڑھ کر 160روپے سے لیکر 220روپے تک فروخت کی جاتی ہے ،ایک پاکستانی روپیہ 151ایرانی ریال کے برابر ہیں ،اندرون بلوچستان میں اس وقت ایرانی پیٹرول کی مختلف قیمتیں وصول کی جارہی ہے جس کے مطابق کوئٹہ میں 195سے220تک فی لیٹر،ڈیرہ اللہ یار میں190، دکی 200، صحبت پور213، حب 210، قلات170، گڈانی200، تربت160، خضدار175، پسنی 165، گوادر155، چمن 200،قلعہ سیف اللہ 205، تفتان 160، ژوب 200،شیرانی 200، سوراب سکندرآباد180،چاغی170، نوشکی200،پنجگور200، بسیمہ 190، واشک 180، ناگ 190، اوستہ محمد200،مستونگ 170،ماشکیل175،خاران 170،اوتھل180، جھل مگسی200،کوہلو200،بارکھان200، بیلہ160،وندر170،موسی خیل میں220،پشین میں 180، سبی 200، زیارت195،سنجاوی 200روپے وصول کی جارہی ہے جبکہ ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں ایرانی پیٹرول نہیں البتہ پاکستانی پیٹرول فی لیٹر264سے 267روپے تک فروخت کی جارہی ہے ۔آگر دیکھا جائے سرحدی اضلاع نوشکی اور پنجگور سے ضلع واشک سوراب قلات مستونگ منگوچر کوئٹہ ،سے حب تک اکثر و بیشتر پنجگور کے بارڈر ایران سے تیل سپلائی کی جاتی ہے لیکن یہی تیل پنجگور میں مہنگا اور آگے جاکر سستا ہوتا ہے ۔دوسری جانب ایرانی پیٹرول کے ڈیلرز کی جانب سے رابطہ کرنے پربتایاگیاکہ ایران سے پیٹرول مارکیٹ تک لاتے ہوئے راستے میں مختلف چیک پوسٹوں کی جانب سے بھتہ لیاجاتاہے اور اگر مذکورہ بھتہ نہ دیاجائے تو ایرانی پیٹرول فی لیٹر 100سے 120روپے تک فروخت ہوسکتی ہے بھتے میں انتظامیہ ،کسٹم ،ایف سی ،لیویز ،پولیس ودیگر ادارے ملوث ہیں جس کی وجہ سے ہمیں مجبوراََ مارکیٹ میں مہنگے داموں پیٹرول فروخت کرناپڑتے ہیںاب تو ٹریفک پولیس اور گشت کرنے والے پولیس اہلکار بھی بھتہ وصول کرنے لگے ہیں ،اس وقت ملک کے دیگرحصوں راولپنڈی ،اسلام آباد،ملتان ،فیصل آباد،لاہور، سیالکوٹ کے فیکٹریوں میں ایرانی ڈیزل اور پیٹرول کی ترسیل جاری ہے ۔



