
دینا عالم کی طرح پاکستان میں بھی مختلف اوقات میں مختلف النوع موضوعات و سلوگنز سیاسی و سماجی دینا میں متعارف کروائے جاتے ہیں اور خاص کر لمحہ موجود کے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے کمزور اور برائے نام موقف و دلیل کو بھی پورے معاشرے پر اثرات مرتب کرنے اور غالب رکھنے کا ہنر و اسکل لوگوں کے ہاتھوں میں موجود ہیں اس پس منظر میں 09 مئی کے پورے بحث و مباحثہ شدت سے یکطرفہ ٹریفک کے طور پر جاری و ساری ہے ہماری حالت دراصل تاریخ کے اس بے رحمانہ قول بلیغ کے مطابق ہوچکی ہے کہ ریڈ لائن
,,سیاست کی دینا میں انجام کار کو جان لینا اور مطالبات کو اپنی مرضی سے پورا کردینا ضروری ہوتا ہے ،اس سے پہلے کہ وہ وقت آ جائے جب مجبور ہو کر انھیں پورا کرنا پڑے ،، گستاولی باں کا یہ قول لمحہ موجود میں,, یعنی 09 مئی کے بعد پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاست پر فٹ آتی ہے پاکستان فی الواقع آزادی یعنی 1947ء سے اب تک مکمل جمہوری و فلاحی نظام حکومت و ریاست تشکیل نہیں دے سکا ہے اور آج 21 ویں صدی کے تیسویں سال یعنی کرونا وائرس کی تباہیوں کے بعد اور دینا میں عالمی کساد بازاری کے دوران 25 کروڑ انسانوں کی باعزت اور باوقار ضروریات زندگی پوری نہیں کرسکتا ہے اس لئے غربت کے خاتمے اور چمک دمک کی دعوے دار سیاست پاکستان جیسے کمزور معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اس کے اوپر ادارہ جاتی سیاست کے مسائل بھی نت نئے اور ہمیشہ پیچیدہ ہی رہے ہیں سول و ملٹری اسٹبلشمنٹ اور سیاستدانوں و جرنیلوں کے ساتھ ساتھ جرنیلوں و اعلیٰ عدالتوں کے ججوں اور میڈیا کے نمائندوں کی یلغاریں بھی شامل ہیں ہمارے وجود نازک اور انسانی نفسیات کے حامل پالیسیاں نہ اپنانے کی وجوہات میں@لیکن جب سے اسٹیٹس کو کے علمبرداروں کا سکہ رواں دواں رہا تو لگتا تھا کہ پاکستان اور انسانی زندگیوں میں بہتری و اطمینان لانے کے لئے ضروری کردار ادا کیا جاتا ہے اگرچہ ہر دور میں ہر سطح پر اشرافیہ اور مافیاز و اسٹیٹس کو کے علمبرداروں کو چیلنج کرنے کے نعرے و دعوے لگتے رہے لیکن جناب ذوالفقار علی بھٹو شھید اور جناب قاضی حسین احمد مرحوم کے بعد عمران خان وہ تیسرے لیڈر و قائد ابھرے پیچلھلے بیس سالوں میں کہ وہ صاف شفاف انداز میں کھل کر بغیر کسی ہیچ پیچ کے ظالمانہ نظام حکومت و ریاست کو چیلنج کرتے رہے اگرچہ جناب عمران خان کے ذات و سیاسی طریقہ کار سے بہت زیادہ اختلاف و افتراق پایا جاتا ہے اور ان کے طرز حکمرانی سے بھی کیونکہ وہ اپنے پہلے تین ساڑھے تین سال حکومت میں آسانیاں پیدا نہیں کرسکے ہیں عوام و خواص دونوں کے لئے لیکن خاص کر 09 مئی کے دن خوفناک اثرات مرتب کرنے والے حرکتوں کے باعث وہ اس وقت شدید گرفت میں ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کار یہ نوبت کیوں لائی گئی 09 مئی کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے فی الوقت کوئی دلیل کارگر ثابت نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی تحریک انصاف کے مقابلے میں پی ڈی ایم کے سرخ و سفید رنگت کے تمام لیڈروں و جماعتوں نے کوئی بات سننے اور سمجھنے کی رواداری اور گنجائش رکھی ہے کیونکہ دینا سازی کے عمل میں ضروری ہے کہ قوم و ملت اور عوام ریڈ لائن رہے نہ کہ نا اہل سیاستدان اور کمزور ترین انصاف کرنے والے ججز مافیاز اور اشرافیہ نما بیوروکریسی جس کی تنخواہیں و مراعات یو این ڈی پی کے بقول اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک کے اہلکاروں سے زیادہ ہیں جبکہ کارکردگیوں میں صفر سے بھی نیچے در نیچے لٹک رہے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ یکطرفہ گفتگو ع دلائل کی بنیاد پر فیصلے نہ کئے جائیں بلکہ اور مکالمے و ڈائلاگ کے لئے ممکن اقدامات کیے جائیں معاشی و معاشرتی جمود مزید ابتری اور یکطرفہ ٹریفک چلانے کے روادار نہیں ہیں ورنہ تباہیوں اور بربادیوں کا سامنا کرنا ہوگا پاکستان ترکی نہیں ہے اور نہ ہی بنگلہ دیش کہ کسی بھی طرح حکمرانی تاج رکھنے والے جماعتیں فرضی اور غیر حقیقی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لئے سب کچھ کرسکیں گے بلکہ کواکبی (طبائع اللا ستبداد) کے تاریخی الفاظ میں,, ظلم پر لمبی خاموشی کی اور جبر و ذلت اور غلامی کو قبول کرلینے کی قیمت تو آخر کار ادا کرنی ہی ہوگی ،،ریڈ لائن
اقبال کا ادراک و کمال ابھی باقی ہے وہ جاوید نامہ یعنی فارسی مجموعہ میں کہتے ہیں جسے مضطر مجاز نے ترجمہ کیا ہے @@@ @ ذرہ ہے تو تاب و تب اپنی بچا رکھ گرہ میں باندھ کر اس کو سدا
@ آب و تاب اپنی بڑھانا چاہیے
سامنے سورج ☀️⛅ جانا چاہیے
@ اک نیا پیکر تراش
اے خود شکن!
کرکے اپنا امتحان, موجود ،بن!
@ بس یہی موجودہے ،محمودہے
ورنہ نار نیست موج دود ہے ##



