
کوئٹہ(یواین اے)بلوچستان کے متعدد اضلاع ایک بار پھر کانگو وائرس کی لپیٹ میں آگئے ہیں جہاں وائرس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہوچکے ہیںبلوچستان میں رواں سال کے دوران کانگو وائرس کے 35 کیسز رپو ر ٹ ہوئے جن میں سے 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں یہ پہلی بار نہیں کہ بلوچستان میں کانگو وائرس کی وبا پھوٹی ہے بلکہ 80 کی دہائی کے آخر اور 90 کی دہائی کے وسط میں بھی اس وبا سیدرجنوں قیمتی جانوں کا ضیاع ہواصوبائی حکومت کی اس وائرس کے پھیلا اور روک تھام کے حوالے سے دلچسپی کا اندازہ اس بات لگایا جاسکتا ہے کہ صوبے میں 4 دہائیوں سے کوئی ریسرچ سیل ہی قائم نہ ہوسکا2001 سے 2023 کے دوران تو تقریبا ہر سال ہی لورالائی اور موسی خیل اضلاع سے کانگو وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیںمتاثرہ افراد کی یہ شکایت عام ہے کہ صوبائی حکومت نے نا تو صوبے کے اضلاع میں متاثرین کے علاج اور نہ ہی جانوروں کے اسپرے پر کوئی توجہ دوسری جانب بلوچستان کے مکران ڈویژن کے ضلع کیچ میں موسم گرما کی بڑھتی شدت کے ساتھ ڈینگی کیسز میں اضافہ ہونے لگا ہے محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق ضلع کیچ میں2 ماہ کے دوران ڈینگی کے 21 سو سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ اب تک اس سے 2 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیںضلع کیچ میں ڈینگی کے بڑھتے کیسز میں اضافے کی وجہ سے اسپتالوں میں جگہ کم پڑنے لگی ہے تاہم محکمہ صحت نے ڈینگی پر قابو پانے کے لیے کیچ سول اسپتال میں 10بیڈز پر مشتمل آئیسولیشن وارڈ قائم کردیا ہے شہریوں کے مطابق متاثرہ علاقوں میں مزید ڈاکٹرز، ادویات سمیت عملے کی ضرورت ہے کیوں کہ مکران ڈویژن میں صحت کی سہولیات میسرنہ ہونے کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے



