
34ویں نیشنل گیمز کے کامیاب انعقاد سے دنیا کوواضح پیغام گیاہے کہ بلوچستان ایک پرامن اور محفوظ صوبہ ہے
ہمیں اپنے وطن پاکستان اور بلوچستان پر پورا یقین ہے اس یقین کوکوئی نہیں توڑ سکتا،گیمز کے اختتامی تقریب سے خطاب
کوئٹہ(یو این اے )صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے نوجوانوں پر زوردیتے ہوئے کہاہے کہ وہ کھیل کواپنی زندگی کا حصہ بنا کر اپنے اندر اتحاد واتفاق پیدا کرے ،جس قوم نے اتحاد کامظاہرہ کیا اس کی ترقی کوئی نہیں روک سکتا،34ویں نیشنل گیمز کے کامیاب انعقاد سے دنیا کوواضح پیغام گیاہے کہ بلوچستان ایک پرامن اور محفوظ صوبہ ہے ہمیں اپنے وطن پاکستان اور بلوچستان پر پورا یقین ہے اس کی تعمیر وترقی ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے 34ویں نیشنل گیمز کے اختتامی تقریب سے مہمان خصوصی کے طورپر خطاب کرتے ہوئے کیا۔گورنربلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ، صوبائی وزراء میٹھا خان کاکڑ،عبدالخالق ہزارہ ،میر اکبرآسکانی ،بشریٰ رند ،ماہ جبین شیران ،چیف سیکرٹری عبدالعزیز عقیلی ،آئی جی پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ ،سیکرٹری کھیل اسحاق جمالی ،ڈی جی سپورٹس درا بلوچ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ،راحیلہ درانی ودیگر بھی موجود تھے ۔صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہاکہ منظم آرگنائزنگ ومنظم انداز میں 19سال بعد قومی گیمز کاانعقاد کیاگیاجو اس بات کی عکاسی ہے ،بلوچستان ایک پرامن صوبہ ہے ملک بھر میں جہاں کھیلوں وپروگرامز کاانعقاد ممکن ہے تو یہاں بھی ممکن ہے ،اس بات کی بھی خوشی ہے کہ قائداعظم محمدعلی جناح نے خوداپنے پیسے خرچ کرکے ٹراپی عنایت کی تھی وہ آج تک موجود ہیں 1948ء کی ٹراپی جیتنے والے ٹیم کومبارکباد پیش کرتاہوں ،قائداعظم محمد علی جناح اور فاطمہ جناح بڑے شوق سے بچوں ،لڑکیوں کے ساتھ اور لڑکوں کوتوجہ دیتے تھے ،قائداعظم نے بوائز سکائوٹس اور فاطمہ جناح نے گرلز سکائوٹس کی داغ بیل ڈالی اس نیت سے ڈالی کہ بچوں کے اندر آرگنائزنگ سکلز ،محبت اور صحت مندانہ مقابلے منعقد ہوں،بلوچستان کے اندر گیمز کاانعقاد کرکے دنیا کو جوپیغام دیاگیا وہ قابل تحسین ہے ،بلوچستان ایک محفوظ اور پرامن صوبہ ہے موجودہ حکومت اور ساری حکومتیں یہاں کوشش کرتی رہی ہے کہ یہاں کی زرخیز علاقہ ،سمندر،معدنیات سب کو بہترانداز میں استعمال کرکے بلوچستان کوترقی کی راہ پرگامزن کیاجائے ،کھیلوں کے انعقاد کے پانچ فوائد ہیں جس میں بچوں کی انسانی نشونما،ہارجیت کوسمجھنا،جیتنے والے کومبارکباد ،ہارنے والا پھر جیتنے کی کوشش کرے ،ٹیم ورک ،اورکھیلوں کے ذریعے بہتراخلاق بنانے کی تربیت فراہم کی جاسکتی ہے ،بچے گلی گلیوں میں کرکٹ، فٹ بال سمیت ہر گیم کھیلاکرتے ہیں پھر سکولوں ،کالجز، یونیورسٹیوں اور ڈیپارٹمنٹ کی سطح پر مقابلے منعقد ہوتے ہیں کبڈی سے متعلق دنیا جان گئی ہے کہ یہ ایک کھیل ہے ،بلوچستان کے اندر ایک کامیاب انداز سے قومی گیمز کاانعقاد کیاگیا ،کھیل ورزش اور ایکسرسائز زندگی کے معاملات میں ہوناچاہیے



