بلوچستانتازہ ترین

کالعدم بی این اے کے بانی گلزار امام نے قوم سے معافی مانگ لی

بلوچستان کے حقوق کی جنگ قانونی طریقے سے لڑی جاسکتی ہے، مسلح تحریکوں سے نقصان بلوچ عوام کا ہو رہا ہے،پریس کانفرنس
بلوچ طالبعلم لڑائی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ترقی کیلئے کردار ادا کریں، ریاستی اداروں کو بلوچستان کے مسائل کا ادراک ہے
کوئٹہ(یو این اے )کالعدم تنظیم بلوچستان نیشنلسٹ آرمی (بی این اے )کے بانی گلزار امام شمبے نے قوم سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح تحریکوں سے نقصان بلوچ عوام کا ہو رہا ہے، نوجوان ہتھیار پھینک کر مذاکرات کی میز پر آئیں۔گزشتہ روز کوئٹہ کے سول سیکرٹریٹ جمالی آڈیٹوریم میں گلزار امام شمبے کو میڈیا کے سامنے پیش کیاگیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور سینیتر آغا عمر احمد زئی ودیگر بھی موجود تھے ۔گلزار امام عرف شمبے نے کہاکہ بے گناہ افراد کے قتل پر قوم اور نوجوانوں سے معافی کا طلب گار ہوں۔گلزار امام شمبے کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات کی خرابی میں بے روزگاری اور وسائل کی منصفافہ تقسیم کا نہ ہونا ہے، لیکن مسلح تحریکوں کا سب سے زیادہ نقصان بلوچوں کا اپنا ہو رہا ہے۔گلزار امام شمبے نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل گرفتار ہوا تو مزاحمتی تحریک کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور ماضی کا تجزیہ کیا، اس دوران ریاست اور بلوچستان کے جیو پولیٹیکل اہمیت کو سمجھے بغیر جنگ لڑنے کی غلطی کا ادراک ہوا۔گلزار امام شمبے کا کہنا تھا کہ دوران حراست سمجھا کہ مسلح جدوجہد مسائل کا حل نہیں، بلوچستان کے حقوق کی جنگ قانونی طریقے سے لڑی جاسکتی ہے، مسلح تحریکوں سے نقصان بلوچ عوام کا ہو رہا ہے، بلوچستان مسائل کا شکار ہے، صوبے اور ملک میں سرمایہ کاری کا عمل رک چکا ہے۔گلزار امام شمبے نے بتایا کہ کچھ لوگ مسلح جہدوجہد کو پریشر گروپ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، ہمسایہ ممالک بلوچستان میں سورش کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔گلزار امام شمبے کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہوئے، نوجوان ہتھیار پھینک کر مذاکرات کی میز پر آئیں، بلوچستان کے حقوق کی جنگ سیاسی اور آئینی طریقے سے ممکن ہے، بلوچستان پیچھے رہ گیا ہے، سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، بلوچ طالبعلم لڑائی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ترقی کیلئے کردار ادا کریں، ریاستی اداروں کو بلوچستان کے مسائل کا ادراک ہے۔گلزار امام نے قوم سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ 15 سالہ تحریک میں جن بے گناہ لوگوں کا خون بہا ان کے پیاروں سے معافی مانگتا ہوں، ریاست ماں ہے مجھے اصلاح کا موقع دے گی، اگر موقع ملا تو نوجوانوں سے رابطے کر کے قومی دھار ے میں لائوں گا۔واضح رہے کہ گلزار امام عرف شمبے 1978 کو پنجگور میں پروم کے مقام پر پیدا ہوا، 2009 تک ٹھیکیدار اور نیوز رپورٹر کی ملازمتیں کیں، گلزار امام 2018 تک کالعدم بلوچ ری پبلیکن آرمی میں براہمداغ بگٹی کا نائب رہا۔گلزار امام عرف شمبے نے نومبر 2018 میں بلوچ راجی آجوئی سنگر نامی تنظیم کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا، اور یہ کالعدم بلوچستان نیشنل آرمی کا بانی ہے، یہ تنظیم بی آراے، یو بی اے نامی تنظیموں کو ملا کر بنائی گئی۔گلزارامام دہشت گردی کی درجنوں وارداتوں سمیت پنجگور اور نوشکی حملوں میں ملوث تھا، اس کے بھارت اور افغانستان سے رابطے تھے، اس نے دسمبر 2017 میں گل نوید کے نام سے افغان پاسپورٹ پر بھارت کا دورہ بھی کیا تھا، اور 11 جنوری 2022 کو بلوچ نیشنلسٹ آرمی کا سربراہ منتخب ہوا۔ گلزار امام شمبے کو 7 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button