
ڈیرہ اللہ یار(یو این اے)ڈیرہ اللہ یار میں دونوں ٹانگوں سے معذور نوجوان نے ہمت اور حوصلے کی اعلیٰ مثال قائم کر دی، پولیو مہم کا حصہ بن کر روزانہ پانچ کلو میٹر کا دشوار گزار راستہ طے کرکے بچوں کو پولیو سے حفاظتی قطرے پلا کر قومی فریضہ ادا کرتا ہے، ڈیرہ اللہ یار کی شہید مراد کالونی کا رہائشی نوجوان قربان علی راہوجہ خود دو سال کی عمر میں پولیو کا شکار ہو کر دونوں ٹانگوں سے معذور ہوگیا تھا، معذوری کے باوجود قربان علی نے ہمت نہیں ہاری، بلند حوصلے کے ساتھ انتہائی مصائب حالات اور غربت کا مقابلا کرتے ہوئے میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور 2011 ء سے پولیو مہم کا حصہ بن گیا، قربان علی گزشتہ 11 سال سے محکمہ صحت جعفرآباد کی ٹیموں کے ساتھ ہر پولیو مہم کا حصہ بن کر قومی فریضہ ادا کرتا ہے.
پولیو مہم کے دوران اپنی چار پہیوں والی موٹرسائیکل پر سوار ہو کر روازنہ صبح سویرے پانچ سے 6 کلو میٹرز کا طویل اور دشوار گزار راستے طے کرکے مختلف دیہات میں جاکر پیدائش سے لیکر پانچ سال عمر تک کے بچوں کو پولیو سے حفاظت کے قطرے پلا کر قومی فریضہ ادا کرتا ہے، پولیو مہم ختم ہونے کے بعد قربان علی راہوجہ کبھی دیہاڑی داری تو کبھی رکشہ چلا کر اپنے بچوں اور بوڑھے والدین کی کفالت کرتا ہے، قربان علی راہوجہ نے”نمائندہ یو این اے نظام جتوئی” سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انکا والد انتہائی غریب ہے، میں نے پیدا ہوتے ہی غربت دیکھی اور فاقے کاٹے ہیں، نامصائب حالات میں کبھی حوصلہ نہیں ہارا نا اپنی معذوری کو کبھی کمزوری بننے دی.
جب پانچ سال کی عمر کا ہوا تو دوسرے بچوں کی طرح تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہوا، ابتدائی تعلیم خان گڑھ پرائمری اسکول سے حاصل کی اور مڈل اور میٹرک تک گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول ڈیرہ اللہ یار میں زیر تعلیم رہا، والد کے بیمار ہونے کے بعد گھریلو حالات مزید خراب ہوئے تو تعلیم ادھوری چھوڑ کر اہل خانہ کی کفالت کا ذمہ اٹھا لیا اور محنت مزدوری بھی کی، اب بھی اپنی بساط کے مطابق محنت مزدوری کرتا رہتا ہوں، جب مجھے پولیو سے متعلق آگاہی ملی تو میں نے ٹھان لیا کہ اس موزی مرض کے خلاف مہم کا حصہ بن کر اپنی قوم کے بچوں کے روشن مستقبل کو تاریک بنانے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرونگا.
2011 ء میں پولیو مہم کا حصہ بن گیا اور رضاکارانہ طور پر خدمات سرانجام دے رہا ہوں، قربان علی نے گفتگو کے دوران مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختلف سرکاری محکموں میں معذور کوٹہ پر ملازمت کے لیے درخواستیں دیں تاہم ہمیشہ کی طرح مایوسی ملی، میری خواہش ہے کہ مجھے سرکاری نوکری ملے تاکہ میں اپنے بچوں اور والدین کی کفالت کرنے کے ساتھ ملک اور قوم کی خدمت بھی جاری رکھ سکوں، قربان علی نے مزید بتایا کہ مصائب حالات اور غربت کے باعث خود تو تعلیم مکمل نہ کرسکا لیکن خواہش ہے کہ میرے بچے پڑھ لکھ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کریں، مگر چند سو روپے کمانے سے بچوں کو اعلیٰ تعلیم نہیں دلوا سکتا، حکومت کو چاہیے کہ مجھے معذور کوٹہ پر نوکری فراہم کرے۔



