
گوادر(یو این اے )وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے پاک ایران سرحد پشین میں تجارتی منڈی کا افتتاح کر دیا، دونوں سربراہان نے تجارتی منڈی کے مختلف حصوں کا دورہ بھی کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے گبد تا بولان 100 میگا واٹ بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کا افتتاح کیا اور شجرکاری مہم کے تحت پودا بھی لگایا۔وزیر اعظم کے دورہ پیشن کے موقع پر وزیر اطلاعات، وزیر خارجہ اور وزیر توانائی بھی انکے ہمراہ ہیں۔اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے درمیان آج کے دن غیر رسمی ملاقات، پاک ایران سرحد کا دورہ اور مختلف منصوبوں کا افتتاح شیڈول تھا۔
وزیر اعظم پاکستان اور ایرانی صدر کا پاک ایران سرحد کا دورہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے نئے اور سنہری باب کے ساتھ ساتھ تجارت کے فروغ میں اضافے کا باعث ہوہے۔دونوں ممالک کے مابین تجارت کے فروغ کے لیے نئی تجارتی منڈیوں کا افتتاح کیا گیا، تجارتی منڈیوں کے قیام سے سرحد کے دونوں اطراف رہنے والے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور اسمگلنگ کی روک تھام کی جا سکے گی۔ تجارتی منڈی کا افتتاح کر دیا
حکومت اس وقت مزید 5 تجارتی منڈیوں پر کام کر رہی ہے جو جلد تجارت کے لیے کھول دی جائیں گی۔دونوں سربراہان نے پاک ایران سرحد کے دورے کے دوران 100 میگاواٹ گبد تا بولان بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کا افتتاح بھی کیا۔گبد تا پولان ٹرانسمیشن لائن وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی کی بدولت ریکارڈ مدت میں تعمیر کی گئی ہے۔س ٹرانسمیشن لائن کی تکمیل سے ایران کی کم لاگت بجلی کی مجموعی مقدار 204 میگاواٹ ہو گئی ہے جس سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا بلوچستان میں بلاتعطل بجلی کی فراہمی کا وعدہ پورا ہوا ہے۔واضح رہے اس سے قبل بھی دونوں رہنماں کی ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی.
ملاقات میں وزیر اعظم محمد شہبازشریف اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، توانائی، رابطہ، ثقافتی اور عوام کی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم اور وسیع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔



