
پاکستان کے موجودہ حالات کے ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ ،بیوروکریسی اور سیاستدان ہیں،سرداراخترجان مینگل
ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرکے ایک دوسرے کی ٹانگ نہ کھینچتے تو حالات اس نہج پر نہ پہنچتے ،سربراہ بی این پی
جج صاحب نے کہاکہ خان صاحب کو ایک گھنٹے میں پیش کیاجائے ،بلوچستان کے لوگوں کیلئے تو دیکھ کر اچھا لگا والے الفاظ بھی نہیں ہے
بڑے بڑے مونیسٹرزاور فرنگنسٹائن اور اژدھا پیدا کئے گئے پھر ان کے دم پر پیر رکھے گئے سر کچلے گئے سافٹ اپ ڈیٹ کیاگیا
،50ججز، 50سیاستدان ، 50جرنیل اور 50بیوروکریٹس کو سرعام لٹکائیں تو یہ ملک خود سدھرجائے گابصورت دیگر یہ ملک ایسا ہی رہے گا
2023ء کی مردم شماری میں آبادی میں اضافے کے ساتھ غداروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہاہے،قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب
کوئٹہ/اسلام آباد(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ورکن قومی اسمبلی سردار اخترجان مینگل نے کہاہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات کے ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ ،بیوروکریسی اور سیاستدان ہیں ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرکے ایک دوسرے کی ٹانگ نہ کھینچتے تو حالات اس نہج پر نہ پہنچتے ،جج صاحب نے کہاکہ خان صاحب کو ایک گھنٹے میں پیش کیاجائے البتہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین یا نواب نوروز خان وساتھیوں کو ایک ماہ کا وقت تودور انہیں تو گڈ لک یا آپ کو دیکھ کر اچھا لگا بھی نہیں کہا،بڑے بڑے مونیسٹرزاور فرنگنسٹائن اور اژدھا پیدا کئے گئے پھر ان کے دم پر پیر رکھے گئے سر کچلے گئے سافٹ اپ ڈیٹ کیاگیالیکن بنانے والی تجربہ گاہوںکے خلاف کارروائی کی بجائے قوم کے خلاف استعمال ہوئی ،2023ء کی مردم شماری میں آبادی میں اضافے کے ساتھ غداروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہاہے،،50ججز، 50سیاستدان ، 50جرنیل اور 50بیوروکریٹس کو سرعام لٹکائیں تو یہ ملک خود سدھرجائے گابصورت دیگر یہ ملک ایسا ہی رہے گا ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ ایوان بالا میں محسوس یہ ہورہاہے کہ ہم حکومت نہیں بلکہ سب اپوزیشن ہیں اور یہ بھی لگتاہے کہ ہم حکومت کے خلاف تقاریر بھی کررہے ہیں آج جن حالات کامقابلہ کررہے ہیں اس ملک میں جو واقعات رونما ہورہے ہیں شاید چند لوگوں کیلئے یہ انوکھی اور نئی چیزیں ہوں لیکن سوچنے اورسمجھنے کی بات یہ حالات اس نہج پرپہنچے ہیں کہ ایسے اچانک طوفان کھڑا نہیں ہواہے جب ملک میں قدرتی آفات آتے ہیں تو ان کالوگوں کو پتہ ہوتاہے اس کیلئے تیاری کرتے ہیں اور زلزلے کا تو پتہ ہی نہیں چلتا آج کل ماڈرن زمانہ ہے سونامی بھی آتی ہے یہ وہ سونامی نہیں جو آج کل چل رہی ہے جب تک قدرتی سونامی ہے جب وہ آتی ہے تب ہمیں پتہ چلتاہے تو ہم مختلف نام دینے جاتے ہیں لیکن یہ جوواقعات ہوئے ہیں کیایہ ایک دن کا پیداوار ہیں یا تو کئی عرصے سے چلی آرہی ہے یہ ہم سب سرپر ہاتھ رکھ کر یہی گانا گھار ہے ہیں ”یہ کیا ہوا یہ کیسے ہوا اور کب ہوا” کیایہ ایک ہی اس ملک میں پیدا کردہ مونیسٹر ہیں جس کو فرنگنسٹائن کہاجاتاہے جب سے پاکستان وجود میں آیاہے مختلف اقسام کے فرنگنسٹائن پیدا کئے گئے مختلف اقسام کے اژدھا پیدا کئے گئے اور وقت ضرورت پر ان کو استعمال کیاجاتارہاہے اور جب وہ اپنی حد سے تجاوز کرگئے توپھر کبھی ان کی دم پر پیر رکھ دیاجاتاہے یا تو ان کے سر پر پیر رکھ دیاجاتاہے اور کہی ایسے مونیسٹر بنادئیے گئے ہیں اور ان کے سر کچلے گئے ہیں یا ان کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کیاجاتاہے اورکئی کا مدر بورڈ بھی لے جایاجاتاہے اور جنہوں نے یہ مونیسٹر اورفرنگنسٹاء بنائے ہوئے ہیں آج دن تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اورنہ ہی وہ تجربہ گاہیں جن پر یہ اژدھابنائے جاتے ہیں کاخاتمہ کیاگیاہے بلکہ ان تجربہ گاہوں سے قوم کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے ،ان تجربہ گاہوں کے ڈاکٹرز جس نے فرنگنسٹائن بنایاتھا وہ ڈاکٹر وولڈ مین نہیں بلکہ یہاں توکئی وولڈ مین ملیںگے جو شیروانی میں بھی ہونگے وہ ججوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوںگے اور ہمارے وآپ کے دروازوں پر بھی بیٹھے ہونگے آج کے یہ حالات کے ذمہ دار ایک فرد یا ادارہ نہیں بلکہ ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں پارلیمنٹ ،جوڈیشری ،بیوروکریسی ،اسٹیبلشمنٹ اس کی ذمہ دار ہے اگر یہ اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیتے اور ایک دوسرے کی ٹانگ نہ کھینچتے اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے تو شاید آج ملک اس نہج پر نہیں ہوتا،انہوں نے کہاکہ آج کے حالات کو دیکھ کر میں یہ نہیں کہوں گا کہ مجھے خوشی ہورہی ہے لیکن ہنسنا تو ہمارا بھی حق بنتاہے آج ہمیں ہنسی آرہی ہے ان حالات کودیکھ کر جن حالات کا تذکرہ اور جن حالات کی نشاندہی آج سے 60سال پہلے ہم لوگ جب بات کرتے تھے تو ہم پر ہنسا جاتاتھا ہم پر تہمت اور غداری کے الزامات عائد کئے جاتے تھے جب ہم وہاں پر بیٹھے ہوتے تھے تو میں نے کہاکہ غداری کے القابات گنتے جائیں 2023ء کی مردم شماری میں آبادی کئی صوبوں کی سوفیصد آبادی بڑھ رہی ہے اسی طرح غداروں کی بھی تعداد بڑھ رہی ہے ۔چشم بدور نظر نہ لگے جو یہ رویہ بڑھتاجارہاہے یہ دوہرا معیار سلوک صرف عدلیہ نہیں بلکہ پارلیمنٹ نے بھی حصہ لیاہے ،1960ء نواب نوروز خان اور اس کے دوستوں کو قرآن شریف کا واسطہ دیکر پہاڑوں سے اتارا گیا کسی جج ،سیاستدان ،صدر اوروزیراعظم نے ان کو یہ کہہ کر نہیں پکارا کہ آپ کو دیکھ کر اچھا لگا اور نہ ہی نیک تمنائوں کااظہار کیا بلکہ انہیں پھانسی پر چڑھایاگیا جب نواب نوروز خان کے بیٹے کو پھانسی پر لے جارہے تھے توقرآن شریف کو انہوں نے اپنے گلے میں باندھا ہواتھا ان سے پوچھاگیاکہ یہ کیا ہے اس کو اتارو جس پر انہوں نے کہاکہ نہیں اتاروں گا کیونکہ آپ لوگوں نے اس کی گارنٹی دی تھی جب میں وہاں پہنچ جائوں گا تو اپنے اللہ سے پوچھوں گا کہ جس کتاب اور جس نام پر یہ ملک بنایاگیا اس ملک کے رکھوالوں واقتدار کے رکھوالوں نے آپ کے اس قرآن کی قدر نہیں کی ،ہمارے اکابرین کو جیلوں میں رکھاگیاہے علی وزیر کو 26ماہ جیل میں رکھاگیا اور ضمانت نہیں ہورہی تھی ہماری اور پی ٹی آئی کی بھی حکومت تھی بڑی مشکل سے یہ ضمانت علی وزیر کو مل گئی یہاں توجج صاحب نے کہہ دیاکہ خان صاحب کو ایک گھٹنے کے اندر پیش کرے اسی آئین کے تحت بلوچستان سے آئے ہوئے لاپتہ افراد کے لواحقین کوہمیں تو کم از کم ایک ماہ کا وقت دیاجائے کہ وہ بلوچستان سے 5ہزار کلومیٹر بچے بوڑھے خواتین پیدل چل کرآئے تھے آج ان ججز کی آنکھوں پر واقعی کالی پٹی بندھی ہوئی تھی کہ ان کے کانوں میں مومے ڈالے ہوئے تھے کہ ان بچوں کی چیخ وپکار سنائی نہیں دے رہی تھی ،کسی نے آکر ان سے یہ پوچھا کہ ایک ماہ کے بعد آپ کا والد آپ کو مل جائے گا یاکسی نے ان بچوں کو والدکی بازیابی کی تسلی دی ،ہم لاپتہ افراد کے ان سب کیمپوں میں گئے جب ہم حکومت میں آتے ہیں ہمیں صرف اپنے مسائل یاد رکھتے ہیں حکومت کوکیسے بچاناہے یہاں تو 10،دس سالوں سے لوگ غائب ہیں ان سے صرف یہ کہاجائے کہ جی آپ 10سال اور انتظار کرے ،یہی ججز صاحبان سپریم کورٹ ،ہائی کورٹ ہو کسی نے آج تک لاپتہ بلوچ لواحقین کو تسلی دی ہے کہ ایک ماہ بعد آپ کو آپ کے پیارے مل جائینگے ،یہ دوہرا معیار ہیں میں یہ نہیں کہتاکہ ملک میں فسادات ہوئے خدانخواستہ کسی کو اختیار دیاجاتاکہ جاکر وہاں گولیاں چلائیں میں یہ نہیں کہوں گا لیکن ہماراقصور کیاہے ہمیں توگولیوں سے زیادہ چلی کیاجارہاہے میں یہ نہیں کہوں گا کہ لاہور میں جیٹ طیاروں سے بمباری کی جائیں وہاں پر توآپ ائیر گن جس میں ہوا بھری جاتی ہے وہ بھی چلاتے ہوئے احتیاط کیاجاتاہے کہ ساڈا بھائی ہے وہ آپ کے بھائی ہے ہمیں توسوتیلا بھائی بھی نہیں سمجھاجاتابلوچستان میں ہرہتھیار استعمال کیاگیا میں یہ کبھی نہیں کہوں گاکہ کسی کا گھر جلا دو لیکن بلوچستان میں کتنے گھر جلائے گئے ہیں ہمارے عالی شان محل نہیں ہے ،ہم گرم دھوپ سے بچنے کیلئے جھونپڑیوں تک کو نہیں بخشا گیا،ہمارے کچے مکانات تک نہیں بخشے گئے معیار رکھناہے تو برابری کا رکھیں کسی کو گڈ لک اور کسی کو پھانسی پر لٹکانا اب یہ نہیں چلے گا ہم اور ان میں بڑا فرق ہے عمران خان کو مرسڈیز میں لایاگیا ان کو گیسٹ ہائوس میں رکھا گیا ہماری اور آپ کی جگہ گیسٹ ہائوس نہیں ہماری جگہ گرے ہوئے گھر ہیں بلوچستان کے حوالے سے ہر بار کہتے آرہے ہیں کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بننا چاہیے کئی بار کہتارہا کسی نے سنا نہیں کیونکہ ان کو بلوچستان کی ضرورت نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ دریانیل میں جب طغیانی آتی تو اس طغیانی کوکنٹرول کرنے کیلئے مخلوق کی قربانی چڑھائی جاتی تھی ان کی سوچ اور روایت تھی جس سے طغیانی کم ہوجاتی تھی ،موجودہ حالات میں جو طغیانی آئی ہے اس کوکنٹرول کرنے کیلئے قربانیاں دینی پڑے گی کیونکہ اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں جس میں سیاستدان ،جرنیل ،بیوروکریٹس اور ججز شامل ہیں ،لاہور میں اپنی خطاب میں کہاتھاکہ سیاستدانوں ،ججز اور جرنیلوں میں 50، پچاس کو جب تک سرعام نہیں لٹکایاجاتا یہ ملک نہیں سدھرے گا،50ججز، 50سیاستدان ، 50جرنیل اور 50بیوروکریٹس کو سرعام لٹکائیں تو یہ ملک خود سدھرجائے گابصورت دیگر یہ ملک ایسا ہی رہے گاایک قرارداد لائے اور منظور کرے اس سے کچھ نہیں ہوتا صوبائی وقومی اسمبلی میں کئی قراردادیں اور بلیں پیش ہوئی ضروری ہے کہ ایسا اقدامات اٹھایاجائے تاکہ آنے والی نسلیں یا وہ جو فرنگنسٹائن کی لیبارٹریز بنی ہوئی ہیں انہیں تو خوف آئیں۔



