
عمران خان کی گرفتاری ،کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں قومی شاہراہوں وسڑکوں کو بلاک کردیا
کوئٹہ میں پی ٹی آئی کارکن احتجاج کے دوران مشتعل ،جلائو گھیرائو کے نتیجے میں ایک پی ٹی آئی کارکن جاںبحق 10زخمی ہوگئے
پولیس کی کارروائی ،30کارکن گرفتار،مشتعل کارکنوں نے 2پولیس کے قیدی وین کو آگ لگا دیں 7گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے گئے
پولیس کاصحافیوں پر تشدد کوئٹہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری سمیت 6صحافی وکیمرہ مین تشدد سے زخمی ہوگئے
کوئٹہ/اندرون بلوچستان(یو این اے )پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری ،پی ٹی آئی بلوچستان نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں قومی شاہراہوں وسڑکوں کو بلاک کردیا،کوئٹہ میں پی ٹی آئی کارکن احتجاج کے دوران مشتعل ،جلائو گھیرائو کے نتیجے میں ایک پی ٹی آئی کارکن جاںبحق 10زخمی ہوگئے ، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 30کارکنوں کو گرفتارکرلیاہے ،مشتعل کارکنوں نے 2پولیس کے قیدی وین کو آگ لگا دیں جبکہ 7گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے گئے ،پولیس صورتحال کنٹرول کرنے کی بجائے صحافیوں پر تشدد کرنے لگیں ،کوئٹہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری سمیت 6صحافی وکیمرہ مین تشدد سے زخمی ہوگئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ عدالت سے قومی احتساب بیورو (نیب)کی جانب سابق وزیراعظم وپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار ی کے خلاف پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کی جانب سے مرکزی کال پر قومی شاہراہیں بند کردی گئی ،کوئٹہ میں ائیرپورٹ روڈ ،سریاب روڈپر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے روڈ کو احتجاجاََ بند کردیاگیا جس کی وجہ سے عوام کو سخت مشکلات کاسامنا کرناپڑا ،روڈوں کی بندش سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا، کوئٹہ کے علاوہ ژوب، قلعہ عبداللہ ،پشین ،قلعہ سیف اللہ ،دکی ،زیارت، نوشکی ،چاغی ،گوادر،لورالائی ،قلات ،خضدار،حب ،شیرانی ،موسیٰ خیل ،لسبیلہ ،ہرنائی ،ڈیرہ اللہ یار ،صحبت پورودیگر علاقوں میں پی ٹی آئی کی جانب سے قومی شاہراہیں مختلف مقامات پر بلاک کی گئیں جس کی وجہ سے قومی شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہوکررہ گئیں ،ٹریفک روانی معطل ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ،صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی صوبائی سیکرٹریٹ سے احتجاجی ریلی ایئر پورٹ کے شرکا کا ایئرپورٹ روڈ کی طرف مارچ کیاگیا اور سڑک بند کردی گئی پی ٹی آئی کارکنوں نے ائیرپورٹ روڈ کو ہر قسم ٹریفک کے لئے بلاک کر دیااحتجاجی مظاہرے کی قیادت صوبائی صدر ڈاکٹر منیر بلوچ کررہے تھے ،ائیرپورٹ روڈ پر پی ٹی آئی اور پولیس کے درمیان تصادم کے دوران جلائو گھیرائو کے نتیجے میں فائرنگ سے پی ٹی آئی کاایک کارکن جاںبحق جبکہ 10زخمی ہوگئے ،پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے 30کارکنوں کو بھی گرفتارکرلیا،مشتعل کارکنوں نے پولیس کے 2قیدی وین کو آگ لگادیں جبکہ 7گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے ،احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے صورتحال کنٹرول کرنے کی بجائے صحافیوں پر تشدد کرنے لگیں ،صحافیوں پر تشدد کے دوران 6صحافی زخمی ہوگئے جن میں کوئٹہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری بنارس خان ،روزنامہ انتخاب کے فوٹو گرافر الیگزنڈر کیلون ،آج نیوزکے بابر،جی ٹی وی کے رپورٹر فیضان ،کیمرہ شہباز ،فتح بگٹی پولیس کے تشدد سے زخمی ہوگئے ہیں ،احتجاج کے دوران زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیاگیا ۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں بد امنی کے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے وزیراعلیٰ نے محکمہ داخلہ آئی جی پولیس کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو امن برقرار رکھنے کے لیئے موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ پر امن احتجاج سب کا حق ہے لیکن پر تشدد واقعات شاہراہوں کی بندش اور ہڑتالوں سے عام عوام متاثر ہوتے ہیں ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائیگا وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ لوگ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کریں اور قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ قانون کی عملداری عوام کے جان و مال اور قومی تنصیبات کی حفاظت حکومت کی زمہ داری ہے حکومت امن امان برقرار رکھنے کی اپنی زمہ داری ہر صورت پوری کریگی وزیراعلیٰ نے پر تشدد واقعات میں جانی و مالی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔



