
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان ہائی کورٹ میں وزیر بلدیات کے حلقے کو 89کروڑ روپے کی فنڈز کی اجرا کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس کامران خان ملاخیل اور جسٹس سردار احمدحلیمی پر مشتمل بینچ نے ریمارکس دیئے کہ ب جواب طلب کرلیا کیس میں فنڈز کے استعمال نہ کرنے کے حوالے سے عدالت عالیہ کا فیصلہ بدستور برقرار رکھا جاتا ہے.
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پچھلے سال تاریخ کا بد ترین سیلاب بلوچستان میں آیا تھا۔ جس سے صوبے کا ہر حصہ متاثر ہوا۔ انفراسٹرکچر کو بہت نقصان پہنچا۔ لیکن گرانٹ ان ایڈ جند مخصوص اضلاع تک محدود نہیں ہونی چاہیے تھی سب اضلاع کو برابر فنڈز ملنے چاہیے تھے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہے حکومت بلوچستان نے گرانٹ ان ایڈ کی مد میں دو اضلاع کی ریلیز تو شئیر کی ہیں لیکن یہ بتانے سے قاصر رہی کہ باقی اضلاع میں بھی گرانٹ ان ایڈ کی مد میں کتنی رقم دی گئی ہے، جب کسی قانون کا مساوی اطلاق نا ہو بلکہ قانون کو اپنی مرضی کے لیے سیلیکڈڈ استعمال کیا جائے تو اس قانون کی روح فوت ہو جاتی ہے . بلوچستان کے تمام اضلاع برابر ہے
اور وہ سارا عمل مشکوک اور غیر قانونی ہو جاتا ہے۔ میری معزز عدالت سے گزارش ہے اس سیلیکٹڈ ریلیز کو کالعدم قرار دیا جائے اور حکومت کو ڈائرکشن دی جائے کہ وہ اپنے وضع کردہ فارمولے کے تحت پورے بلوچستان کی ہر لوکل کونسلل کا مختص بجٹ ایلوکیش میں جتنا شئیر بنتا ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کرے۔ اور بلوچستان لوکل کونسلز فنانس کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ آئندہ سے ہر مالی سال کے پہلے ماہ میں ہر لوکل کونسل کا شئیر وضع کر کے اس کی سفارشات مجاز اتھارٹی کو بھجوا دیا کرے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کے رپورٹ کے مطابق لوکل گورنمنٹ نے گزشتہ دو سال کی آڈٹ نہیں کرائی ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے قبل بھی فنڈز من پسند بنیادوں اور کاغذی حد تک خرچ کیے گئے، حکومت بلوچستان کے جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ 89 کروڑ روپے قانون اور ضابطوں کے تحت ریلیز کیے گئے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ قوانین بنائے گئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ قوانین سب پر برابر لاگو ہو رہے ہیں.
یا اپنی صوابدید ہے۔ کسی قانون کا بنیادی اصول ہے کہ اس کا اطلاق سب پر بلا امتیاز ہونا چاہیے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے سرکاری عمال قانون کا نام تو لیتے ہیں لیکن وہ یا تو ایسے قوانین بناتے ہیں جن کو آسانی سے کرپٹ عناصر اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکیں یا ان قوانین کو امتیازی طور پر استعمال کرتے ہیں اس لیے مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ہمارا بابو کرپشن روکنے کی بجائے اس میں معاون کا کردار ادا کرتا ہے



