بلوچستانتازہ ترین

جب73ء کاآئین بنایاگیا تب بھی بلوچستان خون آلودتھا

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سرداراخترجان مینگل نے کہاہے کہ 75سالوں میں یہ طے نہیں ہوسکاکہ پاکستان میں پارلیمنٹ،عدلیہ ،عسکری قوتیں سپریم ہیں یا کوئی اور قوت ،پاکستان میں تین مارشل لائوں میں ایک نے ملک کو دولخت کیا جبکہ دو مارشل لائوں نے ملک میں کلاشنکوف کلچر، ڈرگز، ہیروئن ،دہشتگردی کو عام کیا .
،ان مارشل لائوں کو لگانے والوں اور قانونی حیثیت وجائزدینے والے ججز کا آج تک احتساب نہیں ہوسکانہ ہی انہیں کبھی پارلیمان ،ان کی کمیٹیوں یا سب کمیٹیوں میں طلب کیاکہ کس کوخوش کرنے اور کس کی ایماء پر آئین پر شب خون ماراگیا،قصور ہمارا ہے کہ ہماری نظریں کرسی پر جمی رہتی ہے اور ان غیرقانونی کام کرنے والوں کو وہ عزت دیا جس کے وہ قابل ہی نہیں تھے ،بدقسمتی سے بولنے والوں کاسافٹ اپ ڈیٹ یا مدر بورڈ لے جایاجاتاہے ،جب73ء کاآئین بنایاگیا تب بھی بلوچستان خون آلود تھا اور اسلام آباد ولاہور والے خوشی منار ہے تھے.
آج اس آئین کی گولڈن جوبلی منائی جارہی ہے تب بھی بلوچستان وہی خون آلود ہے آئین کی حالت دیکھ کر ہمیں ترس آرہاہے بلوچستان کے لوگ جب آئین کودیکھتے ہیں اور خود کا آئین سے موازنہ کرتے ہیں تو خود پر کم ترس اور آئین پر زیادہ ترس آتاہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے یونیورسل نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترجان مینگل نے کہاکہ قومی اسمبلی سے ایک بل پاس ہواتھا جس کی وجہ سے مسئلہ بناتھاآج قومی اسمبلی سے وزیراعظم نے اعتماد کاووٹ لیاہے .
،بدقسمتی سے جب کوئی بولتاہے توپھر اس کاسافٹ ویئر اپ ڈیٹ کیاجاتاہے ہم پرانے لوگ ہیں ہمارے پاس تو سافٹ بھی نہیں ہے کسی کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کیاجاتاہے یا پھراس کی مدر بورڈ ہی لے جایاجاتاہے ،بہر حال بولنا توپڑے گا بچپن سے عادت پڑی ہوئی ہے ،انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے اب تک یہ طے نہیں ہواہے کہ پاکستان میں سپریم کون ہے؟ پارلیمنٹ سپریم ہے ،عدلیہ سپریم ہے ؟عسکری قوتیں سپریم ہیں یا کوئی اورقوت ہے جو یہاں پر سپریم ہے نہ صرف اس دن سے بلکہ 1947سے آج تک یہ بات طے نہیںکی گئی .
کہ پاکستان میں سپریم اتھارٹی کون ہے؟ انہوں نے کہاکہ پاکستان کووجود میں آنے کے 9سال بعد اس ملک کو آئین دینے کی کوشش کی گئی جس کو اس ملک کی اس وقت کی اکثریتی صوبے اور وہاں کی نمائندگان کی طرف سے اعتراضات کی وجہ سے وہ آئین قابل عمل نہ ہوسکا دو سال کے بعد فوجی ڈکٹیٹر نے مارشل لاء لگایاپھر 1962ء میں ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ایک آئین پاس کیاگیا.
ایک مارشل لاء کے دور میں ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ،انہوں نے کہاکہ جب 1956کا آئین متعارف کیاجارہاتھا توبنگال کواعتراض تھا ان کی اکثریت کوتسلیم نہیں کیاجارہاتھا اس پر بنگال نے اعتراض کیا اورمتنازعہ رہا اس پر عمل نہ ہوسکا،ملک کو اس حصے کے کونے کے بعد ہمیں ہوش آیا کوششوں کے بعد1973ء کاآئین پاکستان کودیاگیا،جب 73کاآئین پاس کیاگیا توبلوچستان سے 4نمائندے تھے 3نے اس آئین پر دستخط نہیں کئے لیکن پھر بھی اس آئین کو متفقہ آئین کہاجاتاہے ہم پھر بھی اعتراض نہیں کیا .
جب بلوچستان کے ان تین لوگوں نے دستخط نہیں کئے کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ یہاں وعدے وفا نہیں ہوئے ،1973ء میں جب ایک کنکرنٹ لسٹ دی گئی تھی کہ 10سال کے بعد اس لسٹ کو صوبوں کو منتقل کیاجائیگا وہ لسٹ 40سال بعد 18ویں ترمیم کی شکل میں صوبوں کومنتقل کی گئی وہ بھی اس خستہ حال میں منتقل کی گئی کہ صوبے بھی نہیں سمجھ رہے کہ اس کا کیا کرے .
۔آج بھی 2023ء میں جب اس آئین کی سلور جوبلی منائی جارہی ہے 73میں آئین متعارف ہونے پر اسلام آباد لاہور کراچی میں جشن منایاجارہاتھا بلوچستان خون آلود تھا آج کے دن 2023ء میں بھی جب اس آئین کی گولڈن منائی جارہی ہے تو آج بھی بلوچستان وہی خون آلود ہے اس کیس میں کوئی تبدیلی نہیںآئی ،انہوں نے کہاکہ اگرپارلیمنٹ اورعدلیہ اپنے اختیارات ودائرے میں رہ کرفیصلے کرے اورکوئی کسی کی سپریمیسی کو چیلنج نہ کرے توامید چل سکتاہے لیکن ہمیں دیکھناہوگاکہ پارلیمان کتناسنجیدہ ہے ؟
73ء کاآئین بنایاگیا لیکن اسی آئین میں ترامیم ہوئی ہیں آج دن تک آئین میں 25سے زائد ترامیم کی گئی ہے آئین کی حالت دیکھ کر ہمیں ترس آرہاہے بلوچستان کے لوگ جب آئین کودیکھتے ہیں اور خود کا آئین سے موازنہ کرتے ہیں تو خود پر کم ترس اور آئین پر زیادہ ترس آتاہے ،اس آئین کو بنانے سے لیکر آج تک اس کی کیا حالت کی گئی ہے ؟ پاکستان میں تین جو مارشل لاء لگے ،پہلا مارشل لاء ڈکٹیٹرایوب خان نے 1956کے آئین کو روندتے ہوئے 1958ء میں مارشل لاء لگایا لیکن 73ء کے آئین پر دو مرتبہ ڈائریکٹ شب خون مارا گیا اور کس کے لئے ملک کی استقامت کیلئے ؟ ملک کے اداروں کی مضبوطی کیلئے ؟
نہیں بلکہ اپنی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے چند اداروں نے ملک کے بنائے ہوئے آئین پر اپنی بوٹوں تلے روند دیا۔ہم پارلیمان نے اس سے پہلے اور بعد میں صرف حکمرانی ہماری گئی لیکن بحیثیت پارلیمنٹرین اس آئین کو پامال کرنے والے کسی ایک شخص کو کٹہرے میں لائے ؟کیا ہماری کمیٹیاں ،سب کمیٹیاں کسی ایک کمیٹی نے جنرل سے لیکر سپاہی تک ان کو کٹہرے میں لاکر پوچھا کہ کس کوخوش کرنے اور کس کی ایماء پر یہ عمل کیاگیا؟ نہیں آئین سے جو کھلواڑ کیاگیا دنیا کی تاریخ میں یہاں کے حکمرانوں نے آئین کے ساتھ جو کیا.
شاید ہی کسی نے آج تک کیا ہوں،مجھے تو اس آئین اور بلوچستان کی حالت ایک ہی لگتی ہے جب ضرورت پڑتی ہے تو آئین یاد آتے ہیں ،بلوچستان کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے حکمران اپوزیشن میں ہوتی ہے تو موٹے موٹے آنسو بہاتے ہیں جب وہ حکومت میں ہوتے ہیں تو وہ بلوچستان کے لوگوں کے آنسوبہاتے ہیں اور یہی آئین کے ساتھ ہوتاہے اس آئین کا حلف ہم بھی لیتے ہیں ،سپریم کورٹ سے لیکر ماتحت عدالتوں تک ججز آئین کا حلف اٹھاتے ہیں ،وزیراعظم ،چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی سمیت ارکان، فوج کا سپاہی سے لیکر جنرل تک اس آئین کا حلف لیتے ہیں لیکن آئین کی پامالی سب سے پہلے عام لوگ نہیں کرتے وہ تو ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہیں .
تو جیل جاناپڑتاہے لیکن حکمران جتنی آئین کی خلاف ورزی کرے اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔انہوں نے کہاکہ میں کسی سیاسی جماعت یا سیاست دان کادفاع نہیں کرناچاہوں گا کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ اب اس ملک میں سیاستدان نہیں رہے جو سیاستدان تھے یا تو انہیں فزیکل ایلمنیٹ کیاگیا یا اتنا مایوس کیاگیا کہ وہ سیاست کے نام سے بے زار ہوگئے شہید بے.جب73ء کاآئین بنایاگیا تب بھی بلوچستان خون آلودتھا
نظیر بھٹو کی جگہ بلاول بھٹو نہیںلے سکتا،سردارعطاء اللہ مینگل کی جگہ سرداراخترمینگل نہیں لے سکتا، باچاخان ،خان ولی خان کی جگہ ایمل ولی خان نہیں لے سکتا، شہیدنواب بگٹی کی جگہ شاہ زین بگٹی نہیں لے سکتا اور مولانامفتی محمود کی جگہ مولانا فضل الرحمن نہیں لے سکتا،وہ سیاستدان تھے جنہوں نے قربانیاں دیں سالوں سال جیلیں کاٹی کبھی اپنے اصولوں پر سودے بازی نہیں کی جن کی بدولت آج ہماری پہچان ہے آج ہمیں پہچاناجاتاہے اور ہمیں ان ادوار میں ہمیں ملا کیا سیاسی حکومتیں اپنی جگہ جو تین مارشل لاء لگے ہیں ایک مارشل لاء نے ملک کا بڑا حصہ گنوا دیا اس کی کبھی پوچھ گچھ کی گئی ؟ جب73ء کاآئین بنایاگیا تب بھی بلوچستان خون آلودتھا
لاکھوں بنگالیوںکا قتل عام کیاگیا،ہزاروں بنگالی خواتین کی جو عصمت دری کی گئی کبھی کسی یا ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا ان عورتوں کی عصمت دری ،بے گناہ بنگالیوں کا قتل عام اسلام کی تبلیغ کیلئے کیاگیا نہیں صرف اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے کہ ہم انہیں ایسا ماریںگے کہ انہیں پتہ نہیں چلے گااس پر پارلیمان اور عدلیہ جس میں چاہے جسٹس منیر کا نام ہوں یا کسی اور جج کانام ہوں اس غیر آئینی عمل کو آئینی سٹیمپ لگا کر ان کو آئینی شکل دیاہم نے ان ججز کو سامنے جاکر کھڑے ہوکر جاکر سر جکا کر انہیں مائی لارڈ کا خطاب دیا.
ہم نے ان سے پوچھا نہیں کہ کس آئین کے تحت اس مارشل لاء کو قانونی قراردیا کس آئین کے تحت بلوچستان اور بنگلہ دیش میں قتل عام ہونے والے خونی دور کو جائز قراردیاگیا ہم تو اسی دور میں لگے رہتے ہیں کہ وہ کرسی کب خالی ہوں اس میں قصور ان کا نہیں قصور ہمارا ہے کیونکہ ہم ان کو وہ عزت دیا.
جس کے وہ قابل نہیں تھے ہم نے ان کو وہ رتبہ دیا جس کے وہ قابل نہیںتھے ،سپریم کورٹ کے یہ پہلے فیصلے نہیں آرہے 1974ء میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی بھی تو سپریم کورٹ نے لگائی تھی وہ سیاسی جماعت جس کی جڑیں ہر صوبے میں تھیں آج یہاں بہت سی جماعتیں بیٹھی ہیں جو ساری نیشنل عوامی پارٹی کے حصے تھے لیکن اس پر پابندی لگائی کسی نے اعتراض نہیں کیا کہ ایک سیاسی جماعت پر کیوں پابندی لگائی گئی جس طرح ایک مارشل لاء نے ملک کاآدھاحصہ گنوایا دوسرے دو مارشل لائوں نے یہاں پر کلاشنکوف کلچر، ڈرگز، ہیروئن ،دہشتگردی کو عام کیا یہاںپر دہشتگردی کے ادارے قائم کئے گئے جس کی وجہ سے ہزاروںلوگ شہید ہوئے لاکھوں لوگ بے گھر کئے گئے کبھی ان سے پوچھا گیا یااحتساب لیاگیا۔جب73ء کاآئین بنایاگیا تب بھی بلوچستان خون آلودتھا

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button