
پیپلز پارٹی بلوچستان کے سابق صدر ورکن سینٹرل کمیٹی حاجی علی مدد جتک نے کہا ہے کہ بلوچستان میں وزراء کم کوآرڈینیٹرز زیادہ ہیں آج کل ہمارے صوبے میں اللہ گواہ ہے اور ہمیں افسوس ہے کہ بلوچستان لا وارث ہے سوئے ہوئے لوگ بلوچستان حکومت چلا رہے ہیں .
ظلم کی انتہاء ہے کہ بولان کا ایک پل سیلاب سے تباہ ہوا ہے پچھلے چھ مہینے سے بلوچستان حکومت اس کو نہیں بنا یا رہا ہے جبکہ لسبیلہ میں سات چھوٹے پل ٹھوٹ گئے ہیں اور نہ ہی ان چھوٹے پلوں کو بنانے کا عمل شروع ہوا ہے آپ اندازہ لگائیں چھین نے ایک مہینے میں کوئٹہ سے بڑا شہر آباد کیا گیا یہاں تو ایک پل کو کئی مہینے لگ گئے ہیں ابھی تک اس پل پر کام جاری نہیں ہوسکا .بلوچستان میں سویا ہوا شخص مسلط ہے
بلوچستان میں ہمارے نمائندوں نے بڑے بڑے دعوے کئے مردم شماری میں انہوںنے اپنا حق تک ادا نہیں کیا جیسے عمران خان پاکستان پر مسلط ہوا ہے اسی طرح بلوچستان میں سویا ہوا ایک شخص مسلط ہے سنا ہے کہ لوگوں کے سوئے ہوئے کام ہورہے ہیں مگر بلوچستان کی عوام چیخ رہا ہے آپ پنجاب کو دیکھوں نگران وزیراعلیٰ نے پورے رمضان المبارک کے مہینے میں مفت آٹا تقسیم کیا مگر افسوس کی بات ہے بلوچستان میں آٹا پیسوں سے بھی نہیں ملتا ہے



