
چیف جسٹس کی ساس پی ٹی آئی کے وکیل کی اہلیہ کی آڈیو
چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی ساس ماہ جبین نون اور وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ رافعہ طارق کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی آڈیو میں جسٹس عمرعطا بندیال کی ساس ماہ جبین کہتی ہیں کہ ہیلو رافعہ کیا ہوگا یار، تمہیں بتا نہیں سکتی کہ میں تو رات سے عمر کیلئے پڑھ پڑھ کر دعائیں مانگ رہی ہوںجواب میں رافعہ طارق بولیں کہ لوگوں کو بھی کہا ہے اور میں نے عمر کو ایک مسیج بھیجا ہے، تم لاہور کے جلسے میں وہاں موجود تھی وہاں لاکھوں بندہ تھا.
اسی طرح ہر شہر میں لاکھوں بندے ہیں اور تم صرف یہ اندازہ لگا لو کہ اس وقت تمہارے لیے دنیا کتنی دعا کر رہی ہے، اپنا خیال رکھنا اپکو ضرورت ہے ماہ جبین نے کہا کہ اللہ ان کو کمزور کرے اور ہمت دے، اللہ باقیوں کو اندھا کر دے، میں تو یہ کہہ رہی ہوں وہ تو غدارہیں اور یہ سوموٹو کیوں لیا گیا، رافعہ طارق نے کہا کہ وہ تو اس کا حق ہے، جس پر ماہ جبین بولیں عمر کو تو نہیں دیا یہ تو پہلے کا لیا ہوا ہے.
رافعہ طارق نے کہا کہ نہیں مگر یہ تو ہر چیف جسٹس کا حق ہے ماہ جبین نے کہا کہ تم بالکل نا آ اور تم عمر کے ساتھ رہو، رافعہ طارق نے کہا کہ نوین بھی نا آئے اور میں نے ایمان کو بھی کہا ہے بیٹا ان کے ساتھ رہو،اس پر ماہ جبین نے کہا “ہاں بالکل”، رافعہ طارق بولیں رات کو میں نے اس کو اور منیب کو گڈ بھیجا تو دونوں نے پتا کیا مجھے بھیجا، وہ نہیں شکل ہوتی کہ دانتوں میں آپ دبا لیتے ہو اپنی زبان اور مجھے کہہ رہے تھے.
اپنا خیال رکھناماہ جبین نے یہ بھی کہا کہ یار جلدی سے جلدی الیکشن ہوں ابھی، جس پر رافعہ طارق کہتی ہیں کہ دیکھو اگر الیکشن نہیں ہوتے نا پھر یہ اپنا سمجھ لیں کہ مارشل لا لگے گا دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ساس کی مبینہ آڈیو لیک ہونے پر وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیامیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ایک نئی آڈیو منظرعام پر آئی ہے.
پی ٹی آئی رہنماں کی گفتگو سے ہر پاکستانی کے ذہن میں تشویش ابھرتی ہے، کیا ملک کے فیصلے گھر والوں کے کہنے کے مطابق ہو رہے ہیں؟ گھریلو خواتین پارٹی کارکنوں کو غداری پر اکسائیں گی تو بات تو ہو گی، معزز جج صاحبان کے گھر والے اس طرح کی گفتگو میں ملوث ہیںرانا ثنا اللہ نے مزید کہا ہے کہ ملک میں گروپ بندی اور تقسیم پیدا کی جا رہی ہے.
فیصلے ضد اور اناکی بنیاد پر ہو رہے ہیں، معزز جج صاحبان کے گھر والے اس طرح کی گفتگو میں ملوث ہیں؟، گفتگو کے نتائج پوری دنیا دیکھ رہی ہے، اس طرح کی گفتگو کے پوری قوم پر مضر اثرات پڑ رہے ہیں، اس گفتگو نے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اس کا از خود نوٹس لینا چاہییانہوں نے کہا پتا چلایا جائے کہ یہ گفتگو اصلی ہے یا نقلی؟
سامنے آنے والی گفتگو کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، گفتگو درست ہے تو پھر اس پر پوچھ گچھ ہونی چاہیے، ملک میں گروپ بندی اور تقسیم پیدا کی جا رہی ہے، بابا رحمتے کی بھی ایک آڈیو لیک سامنےآئی تھی، پرویز الہی بھی گفتگو میں فیصلوں کیلئے دبا ڈالتے رہے، آڈیو لیک میں چیف جسٹس کو فوری فیصلے کا کہا جا رہا ہے واضح رہے سوشل میڈیا پر مبینہ آڈیو میں دو خواتین کی گفتگو وائرل ہو رہی ہے .
جس میں کہا جا رہا ہے کہ پنجاب میں الیکشن نہ ہوا تو مارشل لا لگے گا، ایک خاتون پاکستان تحریک انصاف کے وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ رافعہ طارق بتائی جا رہی ہیںآڈیو میں دوسری خاتون کا نام ماہ جبین ہے جنہیں چیف جسٹس کی ساس کہا جا رہا ہے، مبینہ آڈیو میں رافعہ طارق اور ماہ جبین نامی خواتین جلد الیکشن اور سوموٹو پر بات کر رہی ہیں، خواتین گفتگو کرتے ہوئے بتا رہی ہیں کہ الیکشن نہ ہوا تو مارشل لا لگے گا



