
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کے سیکریٹری اطلاعات حمزہ شفقات نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پرجاری اپنے ایک پیغام میںمیڈیا بلوچستان کو کوریج کیوں نہیں دیتا بلوچستان کی میڈیا کوریج پر شکوہ بہ لب نظر آئے۔ آج کل بلوچستان میں تعینات اسلام آباد کے سابق ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کا موقف تھا کہ بلوچستان کو میڈیا پر بالکل بھی کوریج نہیں دی جاتی اور اگردی بھی جائے تو صرف منفی خبریں دکھائی جاتی.
ہیںاپنی ٹوئیٹ میں حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ بطور سیکریٹری اطلاعات میرا اپنے دفتر میں پانچواں مہینہ ہے۔ ان پانچ ماہ میں بلوچستان حکومت نے اپنے بہترین پراجیکٹس کے کم از کم 20 سے زائد میڈیا پیکج خود بنا کر بھیجے لیکن کسی بڑے نجی چینل نے ایک بھی آن ائیر نہیں کیا۔
حمزہ شفقات کے مطابق حیرانگی کی بات یہ ہے کہ بڑے نجی ٹی وی چینلز پر اوسطا بلوچستان کو ایک دن میں صرف 34 سیکنڈز ملتے ہیں اور وہ بھی صرف منفی خبریںانہوں نے سوال کیا کہ پرائیویٹ چینلز بلوچستان کی مثبت کوریج کرنے میں اتنے ہچکچاتے کیوں ہیں جبکہ اسلام آباد کے تو گریڈ 17 کے افسران کو بھی کوریج ملتی ہے؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ ہم میڈیا کو کوریج کے لییتو بلاتے ہیں لیکن ہماری کوئی خبر میڈیا پر نہیں چلتی کیونکہ بلوچستان کو نہ تو ناظرین دستیاب ہیں اورنہ ہی ریٹنگ میسر۔ اس لیے میڈیا کی بلوچستان میں دلچسپی نہیں ہے۔
دھماکا ہو تو ٹکر چلا دیے جاتے ہیں لیکن بجلی کے مسائل حل ہو جائیں یا ڈیم بنا دیے جائیں تو میڈیا اسے نہیں دکھاتا۔اس ٹوئیٹ کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر لوگوں نے مشورے دیے کہ بلوچستان کو میڈیا پر کیسے اجاگر کیا جا سکتا ہے صحافی محمد فہیم نامی نے کہا کہ خبروں میں صحافی کا کرداراہم ہوتا ہے۔ اچھی خبرہمیشہ جگہ بناتی ہے اوربلوچستان کے صحافیوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
روزینہ خان نامی صارف نے سوشل میڈیا کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ آپ بلوچستان کی مثبت خبریں سوشل میڈیا پر شیئر کریں جب یہاں پر معاملہ ہائی لائٹ ہو گا تو الیکڑانک میڈیا خود اس کو پِک کرے گا۔صحافی امیرعباس نے صوبائی سیکریٹری اطلاعات کو تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے لکھا.میڈیا بلوچستان کو کوریج کیوں نہیں دیتا
بلوچستان سے آنے والی ہر مثبت خبر کو شیئر کریں، میرا چینل اسے روزانہ چلائے گا۔ایک اور صارف نے لکھا کہ پاکستان قدیم ترین تہذیب و ثقافت کا امین ہے اورتاریخی مقامات سے مالا مال ہے۔ بلوچستان کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھانے میں ہر پاکستانی کو کردار ادا کرنا چاہیے



