
کوئٹہ(یو این اے )جوائنٹ ایکشن کمیٹی سرداربہادرخان ویمنز یونیورسٹی کے زیر اہتمام دھرنا تیسرے روز میں داخل ہونے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بے حسی کا مظاہرہ ، تاحال انتظامیہ کی جانب سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دئیے گئے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد ہوا اور نہ ہی کسی قسم کی یقین دہانی کروائی گئی اس سلسلے میں پر امن احتجاج کیاگیا تفصیلات کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چارٹر آف ڈیمانڈ پرعملد درآمد نہ ہونے کے جواب میں یونیورسٹی گرانڈ میں پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا اور دونوں ایسوسی ایشنز کے صدور کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی نااہلی اور ایمپلائز کے خلاف انتقامی کارروائیاں معطلیاں اور دیگر بے قاعدگیاں فورا بند کی جائیں جس کی تمام ترذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سرداربہادرخان ویمنز یونیورسٹی کے زیر اہتمام مظاہرے میں یونیورسٹی ملازمین آفیسران لیکچرار پروفیسرز نے شرکت کی شرکا نے کہا کہ جائز مطالبات کے لئے تدریسی عمل کو متاثر کئے بغیر انتہائی پرامن مہذب انداز میں احتجاج ریکارڈ کروارہے ہیں تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے لیت و لعل سے کام لینا سمجھ سے بالاتر ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ جان بوجھ کر حالات کو غلط رنگ دینے کے درپے ہیں جو قابل مذمت ہے جبکہ وائس چانسلر یونیورسٹی اور ایمپلائز کو مسائل میں چھوڑ کر بیرون ملک دورے پر روانہ ہوگئیں ہیں جو ماضی میں بھی اسی طرح بیرون ملک ٹی اے، ڈی اے بناتی رہتی ہیں۔ حالت یہ ہے کہ صوبہ کی واحد خواتین یونیورسٹی کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے جس کی وجہ طالبات میں سخت بے چینی پائی جاتی اکثر طالبات نے یا تو مائیگریشن کرکے دیگر یونیورسٹی میں داخلہ لیا یا مجبورا تعلیم کو خیر باد کہہ کر گھروں میں بیٹھ گئیں جو قابل مزمت ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ انتقامی کارروائیوں جبرا ٹرانسفر، میرٹ کی پامالیوں اور خلاف قانون من پسند افراد کی ترقیوں میں مصروف عمل ہے ۔ جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایچ آر پیش پیش رہتی ہے حالانکہ موصوفہ خود دو سال چھٹی گزارنے کے بعد دوبارہ ملازمت پر بحال ہوئی بلکہ اگلے گریڈ میں ترقی بھی لے لی جبکہ پندرہ دن کی مختصر چھٹی پر ایسوسی ایشن کے پریس سیکرٹری کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ نااہل کنٹریکٹ ملازمین کو اہل سینئر آفیسرز کی جگہ تعینات کرنا وائس چانسلر کا شیوہ، ضد اور انا ہے۔ شرکاء نے چانسلر/گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ میر عبدالقدوس بزنجو سے پر زور اپیل کی کہ وہ یونیورسٹی کو تباہی سے بچائیں اور ایمپلائز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔



