
اسلام آباد(یو این اے )اسلام آباد کی مختلف عدالتوں نے 2 مختلف مقدمات میں عمران خان کے ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئیاسلام آباد کی دو ماتحت عدالتوں نے توشہ کانہ کیس میں فوجداری کارروائی اور خاتون جج کو دھمکی دینے کے مقدمات میں عمران کان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔ سول جج رانا مجاہد نے عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے سے متعلق کیس پر سماعت کی عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا نے اپنے موکل کی جانب سے حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی نعیم پنجوتھا نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پرعمران خان نہیں آسکتے فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ آج عمران خان عدالتی وقت تک نہ آئے تو ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردوں گابعد ازاں فاضل جج نے عمران خان کی استثنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ عدالت نے عمران خان کو 29 مارچ کو پیش ہونے کا حکم دے دیا یو این اے کے مطابق ادھر دوسری طرف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے اور توشہ خانہ کیسز میں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا گیاڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف خاتون جج زیباچوہدری کو دھمکی دینے کے کیس کی سماعت سول جج رانا مجاہد رحیم نے کی جہاں عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا پیش ہوئیسیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی گئی جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ عمران خان آج عدالتی اوقات میں نہ آئے تو ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردوں گاعدالت نے ساڑھے 12 تک سماعت میں وقفہ کردیا، عمران خان کو کیس کی کاپیاں دینے کے لیے عدالت نے آج طلب کر رکھا ہے، عمران خان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج ہے وقفے کے بعد سماعت کے آغاز پر عدالت نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست خارج کر رہا ہو، عمران خان کے وکیل نے استدعا کی کہ میری فائل ابھی کلرک لا رہا ہے، پانچ منٹ تک وقفہ کریں، عمران خان کے وکلا کی جانب سے بریت کی درخواست دائر کرتے ہوئے مقف اپنایا گیا کہ بریت کی درخواست پر ملزم کا ہونا لازمی نہیں، عدالت نے کہا کہ آج فرد جرم عائد کے لیے نہیں طلب کیا گیا تھا آج کیس کی کاپیاں فراہم کرنے کے لیے طلب کر رکھا تھاوکیل انتظار پنجوتھا نے کہا کہ عمران خان سابق وزیر اعظم ہیں، وزیر آباد میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا، ابھی تک عمران خان مکمل صحت یاب بھی نہیں ہوئے، وزیرآباد قاتلانہ حملہ کے ابھی تک ملزمان گرفتار نہیں ہوئے، سابق وزیراعظم کے کچھ سیکیورٹی انتظامات ہوتے ہیں، دستاویزات کے مطابق سابق وزیراعظم کو سیکیورٹی مہیا کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سیکیورٹی واپس لے کی گئی، اس وقت کوئی سیکیورٹی نہیں، عمران خان کی سیکیورٹی واپس لینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست جمع کروائی ہے، عمران خان پر دوبارہ قاتلانہ حملہ کرنے کے لیے ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے، عدالتوں سے عمران خان نہیں بھاگ رہے، کوئی بہانا نہیں کر رہے، عمران خان عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا چاہتے ہیں وکیل انتظار پنجوتھا کا کہنا تھا کہ عمران خان قاتلانہ حملہ سے قبل کچہری میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس بھی اسی طرز کی درخواست زیر سماعت ہے، جج نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو نوٹسز جاری کیے اس کا حکم نامہ موجود ہے، جس پر عمران خان کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے نوٹسز والا حکم نامہ عدالت میں پیش کر دیاوکیل عمران خان نے کہا کہ مانتے ہیں کہ ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہر سماعت میں ضروری ہوتا ہے، گزشتہ سماعت پر عمران خان کی زمان پارک میں رہائشگاہ کو پولیس نے چاروں اطراف سے گھیرا ہوا تھا، آج بھی عمران خان کی زمان پارک میں رہائشگاہ کو پولیس نے چاروں اطراف سے گھیرا ہوا ہے، لاہور کھلا ہوتا ہے لیکن صرف عمران خان کی حد تک دفعہ 144 لگائی جاتی ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ زمان پارک میں کیا حالات ہونے والے ہیں، عمران خان کی کچہری میں آمد پر افراتفری کا سما ہوگاانہوں نے کہا کہ بھارت کے سابق وزیر اعظم پر بھی کچھ عمران خان جیسے حالات تھے، بھارت کی سپریم کورٹ نے جو بات کی وہ ہمارے لیے بہت اہم ہے، بھارت کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ تجربے کے لیے سابق وزیراعظم کو مارا نہیں جاسکتا، بھارت کی سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے دیکھا جاسکتا ہے کہ سابق وزیراعظم کو مارا جاتاہے یا نہیں، موجودہ صورتحال میں عمران خان زمان پارک سے باہر نہیں نکل سکتے وکیل انتظار پنجوتھا نے کہا کہ عمران خان کا موجودہ صورتحال میں اسلام آباد آنا خطرے سے خالی نہ ہوگا، ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہے، انہوں نے استدعا کی کہ عمران خان کی آج حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کی جائے، پیش نہیں ہو رہے اور کچھ وجوہات کے باعث پیش نہ ہونا دو مختلف چیزیں ہیں عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے جج نے ریمارکس دیے کہ پندرہ، بیس منٹ تک عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست پر فیصلہ سناں گا بعد ازاں جوڈیشل مجسٹریٹ رانا مجاہد رحیم نے عمران خان کی آج حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے عدالت نے مارگلہ پولیس کو 29 مارچ تک سابق وزیر اعظم کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سماعت پر عمران خان کی جانب سے بریت کی درخواست پر بحث ہو گی الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے مقف اپنایا کہ ان کا رویہ عدالت کے سامنے بڑا مناسب تھا، اسے پہلے ان کے جو وکیل پیش ہوتے رہے ان کا رویہ مختلف ہوتا تھا، عمران خان کے وارنٹ گرفتاری ابھی بھی آن فیلڈ ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی درخواست وارنٹ کے حوالے سے خارج کی، صرف عدالت نے کچھ وقت ان کو دیا کہ وہ متعلقہ عدالت کے سامنے ہوں، صرف چند روز کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ نے آرڈر معطل کیا تھاوکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہائی کورٹ نے کہا اگر عمران خان نہیں آتے تو عدالت قانون کے مطابق دیکھے، قانون کے مطابق دیکھنے کا مطلب ہے عدالت قابل سماعت ہونے کا معاملہ بھی دیکھے، عدالت کا وارنٹ کا حکم آن فیلڈ ہے وہ کسی وقت بھی عمل درآمد کرا سکتے ہیں، میں نے آج کی حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی ہے، عمران خان پر اس وقت ملک بھر میں 40 کے قریب فیک مقدمات درج ہو چکے ہیں، محترمہ بینظیر بھٹو نے قتل میں کیا ہوا تھا؟وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ محترمہ بے نظیر کو وہ سیکیورٹی نہیں دی گئی تھی جو ملنی چاہیے تھی، لیاقت علی خان کے ساتھ کیا ہوا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے، سیکیورٹی کے حوالے سے ہم نے یہاں بھی اور ہائی کورٹ میں بھی پٹیشن فائل کی، ہم نے ہائی کورٹ میں ویڈیو لنک کی درخواست بھی دی ہوئی ہے، اگر میری ایک درخواست استثنی کی خارج بھی ہو تو دوسری بھی عدالت کے سامنے ہے، الیکشن کمیشن نے کمپلیننٹ فائل کی تھی تو یہ دیکھتے کہ کیا 120 روز کے بعد فائل کر سکتے ہیں وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جب تک عدالت کوئی فیصلہ نہیں کرتی تب تک کیس قابل سماعت ہے، وارنٹ جاری ہیں تو حاضری سے استثنی کیسے دیا جاسکتا ہے بعد ازاں محفوظ فیصلہ جاری کرتے ہوئے عدالت نے عمران خان کی استثنی کی درخواست مسترد اور ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بحال کر دیے، عدالت نے عمران خان کو گرفتار کرکے 18 مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پولیس قانون کے مطابق کارروائی کرے۔



