بلوچستانتازہ ترین

ملک عبدالولی کاکڑ کو گورنر بلوچستان مقرر کردیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سید ظہور آغا نے 13اپریل 2022 کو گورنر شپ سے استعفی دیدیا تھا

کوئٹہ(یو این اے )صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے 325دن بعد ملک عبدالولی کاکڑ کو گورنر بلوچستان مقرر کردیا۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سید ظہور آغا نے 13اپریل 2022 کو گورنر شپ سے استعفی دیدیا تھا جس کے بعد حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کی جانب سے مختلف نام زیر گردش رہیں تاہم 324دن گزرنے کے باوجود بلوچستان کے نئے گورنر کی تعیناتی نہ ہوسکیں325ویں دن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک عبدالولی کاکڑ کو گورنر بلوچستان مقرر کردیا۔صدر مملکت نے گورنر بلوچستان کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 48 ایک اور 101 کے تحت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر کی۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر بلوچستان کیلئے بی این پی سے نام طلب کیے تھے جس کے بعد بی این پی کی جانب سے ملک عبدالولی کاکڑ کا نام تجویز کیا گیا تھا۔نئے گورنر بلوچستان وبی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ کون ہے ؟ملک عبدالولی کاکڑ 1958 میں کچلاک کے سیاسی گھرانے اور مبارز ملک عبدالعلی کا کڑ کے ہان پیدا ہوئے جن کا تعلق کاکڑ قبیلے کے ( سرگڑھ)شاخ سے ہے ملک عبدالولی کاکڑ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول کچلاک سے حاصل کی بعد میں سائنس کالج کوئٹہ میں داخل ہوئے اور یہاں سے ایف ایس سی کرنے کے بعد ڈگری کالج سے انجینئرنگ کی اور بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ سے 1983-84 میں ایم اے سوشیالوجی کیا جس کے بعد انہوں نے ورلڈ بنک کے ایک پروجیکٹ میں بھی کام کیا لیکن والد کے اسرار پر نہ صرف انہوں نیورلڈ بنک کے پروجیکٹ سے مستعفی ہوئے بلکہ باقاعدہ طور پر سیاست کی بھاگ دوڑ سھنبال لی ملک عبدالولی کاکڑ زمانہ طالب علمی سے سیاست سے وابستہ رہے کیونکہ کے والد محترم ملک عبدالعلی کاکڑ پاکستان میں مظلوم اقوام کے تحریک ( (خدائی خدمتگار )کے بانی عبدالغفار خان ( باچاخان ) کے قافلے میں 1936میں شامل ہوئے بعد میں خان عبدالولی خان ، خان عبدالصمد خان شہید ، میر غوث بخش بزنجو اور سردار عطا منگل کے ساتھ ملکرکر ملکی سیاست میں ایک کلیدی رول ادا کیا اس دوران ضیا الحق کے مارشلا کے دوران ملک عبدالولی کاکڑ گرفتار ہوئے اور مچ جیل چلے گئے سنہ 1996 میں جب میر غوث بخش کی پارٹی پاکستان نیشنل پارٹی اور ڈاکٹر عبدالحی بلوچ کی بلوچستان نیشنل یوتھ موومنٹ کا انضمام ہوا تو اس کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی کا قیام عمل میں آیا جس کے مرکزی صدر سردار عطا اللہ مینگل اور ملک عبدالولی کاکڑ جونیئر نائب صدر منتخب ہوئے اس کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی سے نہ صرف وابستہ رہے بلکہ سردار اخترجان مینگل کے بیرون ملک ہونے کے باعث پارٹی کی مرکزی قیادت ملک عبدالولی کاکڑ نے بطور قائمقام مرکزی صدر سھنبالی اور آج 64 برس کی عمر میں انکی بحثیت گورنر بلوچستان تعیناتی ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button