
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس نعیم اخترافغان اور جسٹس جناب جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے گوادر کو حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔گزشتہ روز ہائی کورٹ کے دورکنی بینچ نے حق دو تحریک کے قائد مولانا ھدایت الرحمن کی درخواست ضمانت کی سماعت کی ۔درخواست ضمانت پر وکلا نے بحث مکمل کرلی درخواست ضمانت پر عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسماعت کے دوران مولانا ھدایت الرحمن کے وکلا ایڈوکیٹ ریاض احمد ایڈوکیٹ بلال حیدر نے عدالت کو بتایا مولانا ھدایت الرحمن کے پندرہ مقدمات میں پہلے ہی ضمانت ہوچکی ہے27 دسمبر کو پولیس اہلکار کے قتل کے وقت مولانا ھدایت الرحمن سمیت حق دو تحریک کا کوئی کارکن جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھا بلکہ مولانا ھدایت الرحمن گوادر شہر میں ہی موجود نہیں تھا وقوعہ سے 48 گھنٹے قبل ہی حکومت نے موبائل فون سمیت تمام مواصلاتی رابطے منقطع کردیئے تھے قتل کی ایف آئی آر اور میڈیکل رپورٹس بھی ایک دوسرے سے متصادم ہیں پولیس کی جانب سے مولانا ھدایت الرحمن اور اس کے ساتھیوں کی اسحلہ برداری کی جو تصاویر پیش کی جارہی ہیں ان کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس تصویر کے بنیاد پر گوادر شہر سے کوسوں دور اورماڑہ میں ماہ دسمبر کے آغاز میں ہی مولانا اور اس کے ساتھیوں پر مقدمہ درج کیا گیا ہے اس موقع پر عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کرلیا عدالت میں حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی چیئرمین واجہ حسین واڈیلہ مرکزی ترجمان حفیظ کیازئی حق دو تحریک کے رہنما ملا شئے مرید وسیم صمد بھی عدالت عالیہ میں موجود تھے



