بلوچستانتازہ ترین

بارکھان سے خاتون سمیت3لاشیں ملنے کا معاملہ

ممبران میں ایس ایس پی انویسٹیگیشن کوئٹہ،ڈپٹی کمشنر واسپیشل برانچ بارکھان کے نمائندے ودیگر شامل ہونگے

کوئٹہ(یو این اے )بارکھان سے خاتون سمیت3لاشیں ملنے کا معاملہ ،محکمہ داخلہ وقبائلی امور نے ڈپٹی انسپکٹرجنرل پولیس لورالائی ریجن کی سربراہی میں5رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی۔محکمہ داخلہ وقبائلی امور کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان ٹریبونلز آف انکوائری آرڈیننس1969ء کے سیکشن 3کے سب سیکشن 1کے تحت انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے سربراہ ڈپٹی انسپکٹرجنرل لورالائی پولیس ریجن جبکہ ممبران میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن کوئٹہ ،اسپیشل برانچ بارکھان ،ڈپٹی کمشنر بارکھان سمیت دیگر شام ہونگے ۔کمیٹی کو آرڈیننس کے سیکشن5کے تحت تمام اختیارات تفویض کئے گئے ہیں اور انکوائری کمیٹی 30دن کے اندر تحقیقات کرکے رپورٹ جمع کرائے گی۔بارکھان کی ضلعی پولیس کے سربراہ ایس پی نور محمد بڑیچ کے مطابق تین افراد کی لاشیں بارکھان کے علاقے حاجی کوٹ سے تقریبا ڈیڑھ کلومیٹر دور ایک کنویں سے ملیں جنہیں پولیس نے ریسکیو ٹیموں کی مدد سے نکال لیابارکھان کوئٹہ سے تقریبا پانچ سو کلومیٹر دور پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سے ملحقہ بلوچستان کا آخری ضلع ہے ایک اور پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ تینوں افراد کے ہاتھ پاں رسیوں سے بندھے ہوئے تھے۔ آنکھوں پر بھی پٹی باندھی گئی تھی جبکہ خاتون کا چہرہ کچلا ہوا ہے اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ خاتون کو کوئی پتھر یا بھاری چیز چہرے پر ماری گئی ہے یا پھر تیزاب پھینکا گیا ہے۔ایس پی نور محمد بڑیچ کے مطابق لاشوں کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ ضروری کی کارروائی اور شناخت کے لیے لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بارکھان منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم ضلع دکی کے رہائشی خان محمد مری نامی شخص کا دعوی ہے کہ یہ لاشیں ان کے پیاروں کی ہیں جن میں ان کی 40 برس کی اہلیہ گرناز، 22 برس کا بیٹا محمد نواز اور 15 برس کا بیٹا عبدالقادر شامل ہیں۔خان محمد مری کا الزام ہے کہ قتل ہونے والی اہلیہ اور دونوں بیٹے گزشتہ تقریبا چار سال سے صوبائی وزیر اور بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان سردار عبدالرحمان کھیتران کی نجی جیل میں قید تھے۔خان محمد مری نے بتایا کہ دوران قید ان کی اہلیہ اور بچوں پر بد ترین ظلم کیا جاتا رہا اور انہیں بھوکا جاتا تھا۔ خان محمد مری نے الزام لگایا کہ ان کی چودہ سالہ بیٹی اور پانچ سے تیرہ سال کے چار بیٹے اب بھی صوبائی وزیر کی نجی جیل میں بند ہیں جن کی زندگیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران اہلیہ نے عبدالرحمان کھیتران کے بیٹے سے بھی درخواست کی جنہوں نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی۔یہ ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کئی دنوں سے گردش کررہی تھی جس میں خاتون بلوچی زبان میں کہتی ہے کہ سردار عبدالرحمان کھیتران نے ہمیں قید کیا ہوا ہے۔ میری بیٹی کے ساتھ زیادتی کرتا ہے اور میرے بیٹوں کو بھی قید کیا ہوا ہے، ہمیں آزاد کرایا جائے۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی 26 جنوری کو سینیٹ آف پاکستان کے اجلاس میں اس معاملے اٹھایا تھا اور حکام سے صوبائی وزیر کی قید سے خان محمد مری کی اہلیہ اور بچوں کو بازیاب کرانے کا مطالبہ کیا تھا-خیال رہے کہ سردار عبدالرحمان کھیتران پر اس نوعیت کا الزام جنوری 2014 میں بھی لگا تھا۔ تب پولیس اور انسداد دہشتگردی فورس (اے ٹی ایف) نے بارکھان میں ان کی نجی جیل سے خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد کو بازیاب کرانے کا دعوی کیا تھا۔سردار عبدالرحمان کھیتران اس وقت بھی رکن بلوچستان اسمبلی تھے۔ ان کے خلاف چھاپے کے دوران پولیس اہلکاروں کا اسلحہ چھیننے،انہیں یرغمال بنانے اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرنے پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ وہ تقریبا پانچ سال تک ان مقدمات میں جیل اور سب جیل قرار دی گئی اپنی رہائش گاہ میں قید رہے بعد ازاں ان تمام مقدمات میں عدالت نے انہیں بری کر دیا۔عبدالرحمان کھیتران کے دو محافظوں پر جولائی 2020 میں سماجی کارکن اور صحافی انور کھیتران کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔سردار عبدالرحمان کھیتران قبیلے کے سردار ہیں۔ وہ 1997 میں پہلی بار بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر تعلیم بنے۔ کرپشن کے الزام پر نا اہل ہونے کی بنا پر 2002 اور 2008 میں ان کی جگہ اہلیہ نسرین کھیتران نے ق لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور صوبے کی پہلی منتخب رکن صوبائی اسمبلی بنیں۔سردار عبدالرحمان کھیتران ق لیگ چھوڑ کر 2013 میں جمعیت علما اسلام کے ٹکٹ اور2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ متعدد بار صوبائی وزیر کے عہدوں پرفائز رہے۔ عبدالرحمان کھیتران اس وقت صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات کے ساتھ ساتھ صوبے میں بر سراقتدار بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان بھی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button