بلوچستانتازہ ترین

بہت تیزی کے ساتھ لوگوں کا پارلیمان پر بھروسہ اٹھ رہاہے

اگر دنیا میں ان نیچرل اموات کا حساب لگایاجائے تو دنیا میں پہلے افغانستان اور دوسرے نمبر پر ہم ہونگے

کوئٹہ(یو این اے )جمعیت علماء اسلام کے سینیٹرکامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ پارلیمان کو دعا کی بجائے دوا کے کام کیلئے استعمال کرناچاہیے ،پارلیمان تیزی سے اپنی افادیت کھورہاہے ، اگر دنیا میں ان نیچرل اموات کا حساب لگایاجائے تو دنیا میں پہلے افغانستان اور دوسرے نمبر پر ہم ہونگے،بلوچستان میں مرد لاپتہ ہورہے تھے ایک حد تک برداشت کرتے رہے اب تو خواتین اوربچیوں کو اٹھانے کا سلسلہ شروع کیاگیاہے جو پاکستان کو توڑنے کی سازش ہے بتایاجائے پاکستان کو توڑنا ہے تو مشکل حل لوگوں کو اٹھانے یا مارنے کی بجائے آسان حل نکالایاجائے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔سینیٹرکامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہاکہ ایوان میں دعا کرائی جارہی تھی اور ہم بحیثیت مسلمان دعا پر یقین بھی رکھتے ہیں ،حادثات، جوانوں ودیگر کیلئے دعا ہوتی ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ اس ایوان کانام ہائوس آف دعا رکھ دیں دوا تو ہم نہیں کرنی لیکن ہم نے دعا والا کام اپنے لئے رکھاہے ،انہوں نے کہاکہ کیا اللہ پاک دوا کے بغیر خالی دعا سے کسی کام کو کردیتے ہیں مذہب کے بارے میں میرے علم ہے تو میں اس بات پر یقین نہیں رکھتاہے کہ بغیر دوا کے دعا سے علاج ممکن ہوں ،ہر روز دھماکے ،کوئی نہ کوئی حادثہ ،اسلام ،پاکستان کے حوالے سے واقعات ،دہشتگردی ہوتی ہے اور ایک دن 100لوگ شہید ہوئے جیسے وہ بیٹھے تھے انتظار میں کہ اگر ہم شہید ہوگئے تو چیئرمین صاحب ہمارے لئے دعا ضرور کروائے گااگر وہ واپس دنیا میں آئے توہمارے لئے ان کے الفاظ مثبت نہیں ہونگے ایوان کو دعا کی بجائے دوا کا ہائوس بنایاجائے صرف دعا نہیں ہماری حالت یہ ہوگئی ہے کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام میں بھی ناکام ہوگئے ہیں ٹریفک حادثات کوئی ایٹمی سائنس نہیں اس میں ٹریفک پولیس ہوتے ہیں ،بلوچستان میں روز لوگ ٹریفک حادثات میں زندگی کی بازی ہاررہے ہیں اگر دنیا میں ان نیچرل اموات کا حساب لگایاجائے تو دنیا میں پہلے افغانستان اور دوسرے نمبر پر ہم ہونگے ہم پھر معاملے کے حل کیلئے دعا کرتے ہیں اگر وہ زندہ ہوتے توشاید ان کوزیادہ فائدہ ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایوان اور یہ نظام اپنی افادیت تیزی سے کھو رہاہے بہت تیزی کے ساتھ لوگوں کا پارلیمان پر بھروسہ اٹھ رہاہے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ہی ان کے اصل دشمن ہے جو ان کا حق مارے بیٹھے ہیں لوگوں کے اندر جو غصہ ہے اگرمیں زبان ،قوم ودیگر ناموں پر تقسیم نہ ہوتی تو ان کارخ ہماری طرف ہوتا ،اس تقسیم کو دعا دینی چاہیے کہ اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ،سیاستدان یا پھر ہماری جہالت ہے جو عوام تقسیم درتقسیم کاشکار ہے جو اصل مسائل کی بجائے دوسرے چیزوں میں مصروف ہیں ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں ہر روز چھوٹے بچے غائب ہورہے تھے بات پہلے بھائیوں تک محدود تھی اور ہم بھی برداشت کررہے تھے لیکن وہ دکھ برداشت کرنے والا نہیں تھا اب بات بہنوں اور بچیوں تک آگئی ہے اگر کسی جانور کو بھی مقید کرے کہ اس جانور کو احساس ہونے لگے کہ اب اس کے پاس عزت اور زندگی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تو وہ بھی رزسٹ کرتاہے ،بتایاجائے کہ یہ سوچا سمجھا منصوبہ ہے پاکستان کو توڑنے کاجو بچیوں کو اٹھایاجارہاہے ،سوشل میڈیا سے اب پورے پاکستان تک دس منٹ میں خبر پہنچ جاتی ہے ،ہم پھر شاید دعا کرتے ہیں دوا تو ہمارے پاس نہیں ہے پہلے ڈائریکٹ اٹھایاجاتاتھا اب تو اٹھانے کیلئے سی ٹی ڈی کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے کور دینے کیلئے کسی سے اسلحہ تو کسی سے جیکٹ برآمد کرنے کا کہاجاتاہے اگر وہ بچی خودکش بھی تھی تو اس کی ذہنی کیفیت کا اندازہ کرے کہ وہ اس حالت تک کیسی پہنچی اگر وہ خودکش نہیں تھی ہم نے خودکش کے لبادے میں لیپٹ کر لوگوں کے سامنے پیش کیا تو پھر آپ کی ذہنی حالت کاانداز کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ اس بچی کے ساتھ کیا کررہے ہیں یہ صرف ایک بچی کامسئلہ نہیں بلکہ ان بچوں کا بھی مسئلہ ہے جن کے معاملات ریکارڈ پر نہیں آتے مگر ان کے دلوں میں لاوا جل رہاہے یہ پاکستان کو توڑنے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے توپھر اسٹیبلشمنٹ واضح کرے کہ اس صوبے کو اپنے ساتھ نہیں رکھا اور اس ملک کو توڑناہے اور اس طرح سے توڑنا ہے تو مشکل حل کی بجائے آسان حل ڈھونڈ لیاجائے ۔دعا کی بجائے دوا کیلئے کام کی جائیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button